انوارالعلوم (جلد 26) — Page 23
انوار العلوم جلد 26 23 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت مشرک مذاہب کی تردید کرتے رہیں گے اور اسلام کی توحید حقہ کی اشاعت کرتے رہیں گے۔خلافت کے قائم ہونے کے بعد خلافت پر ایمان لانے والے لوگوں نے خلافت کو ضائع کر دیا تو فرماتا ہے مجھ پر الزام نہیں ہوگا۔اس لئے کہ میں نے ایک وعدہ کیا ہے اور شرطیہ وعدہ کیا ہے۔اس خلافت کے ضائع ہونے پر الزام تم پر ہو گا۔میں اگر پیشگوئی کرتا تو مجھ پر الزام ہوتا کہ میری پیشگوئی جھوٹی نکلی۔مگر میں نے پیشگوئی نہیں کی بلکہ میں نے تم سے وعدہ کیا ہے اور شرطیہ وعدہ کیا ہے کہ اگر تم مومن پا لخلافت ہو گے اور اس کے مطابق عمل کرو گے تو پھر میں خلافت کو تم میں قائم رکھوں گا۔پس اگر خلافت تمہارے ہاتھوں سے نکل گئی تو یا د رکھو کہ تم مومن بالخلافت نہیں رہو گے کا فر بالخلافت ہو جاؤ گے۔اور نہ صرف خلفاء کی اطاعت سے نکل جاؤ گے بلکہ میری اطاعت سے بھی نکل جاؤ گے اور میرے بھی باغی بن جاؤ گے۔خلافت حقہ اسلامیہ میں نے اس مضمون کا ہیڈ نگ ” خلافتِ حقہ اسلامیہ اس لئے رکھا ہے کہ جس طرح موسوی زمانہ میں خلافت موسویہ یہود یہ دوحصوں کے عنوان کی وجہ میں تقسیم تھی ایک دور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسی السلام تک تھا اور ایک دور حضرت عیسی علیہ السلام سے لے کر آج تک چلا آ رہا ہے۔اسی طرح اسلام میں بھی خلافت کے دو دور ہیں۔ایک دور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد شروع ہوا اور اُس کی ظاہری شکل حضرت علی پرختم ہوگئی۔اور دوسرا دور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اول سے شروع ہوا۔اور اگر آپ لوگوں میں ایمان اور عمل صالح قائم رہا اور خلافت سے وابستگی پختہ رہی تو انشاء اللہ یہ دور قیامت تک قائم رہے گا۔جیسا کہ مذکورہ بالا آیت کی تشریح میں میں ثابت کر چکا ہوں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ایمان پالخلافت قائم رہا اور خلافت کے قیام کے لئے تمہاری کوشش جاری رہی تو میرا وعدہ ہے کہ تم میں سے ( یعنی مومنوں میں سے اور تمہاری جماعت میں سے ) میں خلیفہ بناتا رہوں گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے متعلق احادیث میں تصریح فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں مَا كَانَتْ نُبُوَّةً قَطُّ إِلَّا تَبِعَتُهَا خِلَافَةٌ 20 که هر نبوت کے بعد خلافت ہوتی ہے اور 66