انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 560

انوار العلوم جلد 26 560 جلسہ سالانہ 1962 ء کے افتتاحی و اختتام اگر اس زمانہ میں بھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قرب کا زمانہ ہے کوئی شخص احمدی کہلاتے ہوئے اس تعلیم پر نہیں چلتا جو اسلام نے دنیا کے سامنے پیش کی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کیا عذر پیش کر سکے گا ؟ بندوں کے سامنے تو تم ہزار عذر کر سکتے ہومگر خدا تعالیٰ کے سامنے جب اولین و آخرین جمع ہوں گے تم اس بات کا کیا جواب دو گے کہ تم نے کیوں خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل نہ کیا اور کیوں اپنی آئندہ نسلوں کی اصلاح کی کوشش نہ کی؟ اور اگر خدا کے سامنے پیش کرنے کے لئے تمہارے پاس کوئی عذر نہیں تو تم کیوں اپنے دلوں کی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کرتے جس کے بغیر کوئی کامیابی اور فتح حاصل نہیں ہو سکتی۔پس میں تمام دوستوں سے کہتا ہوں کہ اپنی تعلیم و تربیت کی طرف خاص توجہ کرو۔اپنے بچوں کی تربیت کی طرف توجہ کرو۔اپنی جماعت کی تربیت کی طرف توجہ کرو۔اپنے اخلاق کی اصلاح کرو۔قرآن کریم کے درس ہر جگہ جاری کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھو اور پھر ان کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرو اور تبلیغ پر زور دو۔مجھے حیرت آتی ہے جب میں جماعت کے بعض دوستوں کے متعلق سنتا ہوں کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں اور جماعتی اتحاد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔میں ایسے تمام دوستوں کو کہتا ہوں کہ اے بھائیو ! کیا وعظ ونصیحت صرف دوسروں کے لئے ہی ہے تمہارے لئے نہیں؟ کیا یہ جائز ہے کہ تم چھوٹی چھوٹی باتوں میں اپنے حقیقی مقصد کو فراموش کر دو اور جماعت کی کمزوری اور اس کی بدنامی کا موجب بنو میں تمہیں قرآنی الفاظ میں ہی کہتا ہوں کہ اے مومنو! کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ تمہارے دل خدا تعالیٰ کے خوف سے بھر جائیں اور تم دوسروں کے لئے ٹھوکر کا موجب بننے کی بجائے اسلام اور احمدیت کی طرف راغب کرنے کا موجب بنو ؟ ان مختصر کلمات کے ساتھ میں آپ کو رخصت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ آپ لوگوں نے ان ایام میں جو مفید باتیں سنی ہیں اللہ تعالیٰ ان پر آپ سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کے دلوں میں وہ نور ایمان پیدا کرے جو احمدیت پیدا کرنا چاہتی ہے اور جماعت کی ترقی کے راستے کھولے۔یہ امر اچھی طرح یا درکھو کہ