انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 559 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 559

انوار العلوم جلد 26 559 جلسہ سالانہ 1962 ء کے افتتاحی و اختتام توفیق عطا فرمائی اور میں نے آپ کے پیغام کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے اپنی تمام زندگی وقف کر دی جس کا نتیجہ آج ہر شخص دیکھ رہا ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک میں ہمارے مشن قائم ہو چکے ہیں اور ہزار ہا لوگ جو اس سے پہلے شرک میں مبتلا تھے یا عیسائیت کا شکار ہو چکے تھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور سلام بھیجنے لگ گئے ہیں۔لیکن ان تمام نتائج کے باوجود یہ حقیقت ہمیں کبھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ دنیا کی اس وقت اڑھائی ارب کے قریب آبادی ہے اور ان سب کو خدائے واحد کا پیغام پہنچانا اور انہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ بگوشوں میں شامل کرنا جماعت احمدیہ کا فرض ہے۔پس ایک بہت بڑا کام ہے جو ہمارے سامنے ہے اور بڑا بھاری بوجھ ہے جو ہمارے کمزور کندھوں پر ڈالا گیا ہے۔اتنے اہم کام میں اللہ تعالیٰ کی معجزانہ تائید اور نصرت کے سوا ہماری کامیابی کی کوئی صورت نہیں۔ہم اس کے عاجز اور حقیر بندے ہیں اور ہمارا کوئی کام اس کے فضل کے بغیر نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر آن اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں اور دعائیں کرتے رہیں کہ وہ ہمارے راستہ سے ہر قسم کی مشکلات کو دور کرے اور ہمیں کامیابی کی منزل تک پہنچا دے۔بے شک ہم اس وقت دنیا کے مقابلہ میں آٹے میں نمک کی حیثیت بھی نہیں رکھتے لیکن اگر ہم صبر اور ہمت اور استقلال سے کام لیں گے اور دعاؤں میں لگے رہیں گے اور کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے تو یقینا اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں ایک تغیر پیدا کر دے گا اور وہی لوگ جو اس وقت ہمیں اپنے مخالف دکھائی دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو صداقت کی طرف کھینچ لائے گا۔تمہیں یا درکھنا چاہئے کہ اس وقت اسلام کا جھنڈا خدا تعالیٰ نے تمہارے ہاتھ میں دیا ہے اور تم پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد کی ہے۔پس جس طرح صحابہ نے اپنی موت تک اسلام کے جھنڈے کو سرنگوں نہیں ہونے دیا اسی طرح تمہارا بھی فرض ہے کہ تم اسلام کا جھنڈا ہمیشہ بلند رکھو اور نہ صرف اپنے اخلاق اور عادات میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا کرو بلکہ آئندہ نسلوں کو بھی اسلامی رنگ میں رنگین کرنے کی کوشش کرو۔