انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 547

انوار العلوم جلد 26 547 اُس دن کو قریب سے قریب تر لانے کی کوشش آسمانی نوروں کو پھیلانے میں سستی سے کام لے رہی ہے۔اگر مسلمان اس تعلیم سے واقف ہوتے جو احمدیت پیش کرتی ہے تو ان کا ایک حصہ عیسائیت کا شکار ہی کس طرح ہوسکتا تھا۔سو آپ لوگ دوسروں کو بھی اسلامی تعلیم سے آگاہ کریں اور خود بھی مسائل سے گہری واقفیت پیدا کریں۔یہی اصل عزت ہے جو انبیاء کی جماعتوں کو حاصل ہوتی ہے کہ ایمان لانے کے بعد وہ نہایت جوش اور اخلاص کے ساتھ دین کی باتیں سیکھنے لگ جاتے ہیں۔اور پھر وہ اس میں اس قدر ترقی کر جاتے ہیں کہ مخالف مذاہب کا بڑے سے بڑا عالم بھی اُن سے بات کرے تو وہ شرمندہ ہو جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ان سے دینی مسائل پر بحث کرنا کوئی آسان کام نہیں۔میں جب جوان تھا مجھے ڈلہوزی میں ایک پادری سے گفتگو کرنے کا موقع ملا اور میں نے اُس سے تثلیث اور کفارہ پر بحث کی۔جب وہ میرے سوالات کا جواب دینے سے عاجز آ گیا تو کہنے لگا کہ سوال تو ہر بے وقوف کر سکتا ہے مگر جواب دینے کے لئے عقلمند آدمی ہونا چاہئے۔میں نے کہا میں تو آپ کو منظمند سمجھ کر ہی آیا تھا۔غرض عیسائیت کا مقابلہ کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ لوگ اپنے فرائض کی ادائیگی کی طرف توجہ دیں اور لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کریں۔لیکن یہ یا درکھیں کہ دوسروں کے سامنے بات پیش کرنے کا طریق ایسا ہونا چاہئے جس سے محبت اور پیار ظاہر ہو۔اور اگر کوئی شخص اپنی ناسمجھی کی وجہ سے آپ کو بُرا بھلا بھی کہے تو مسکراتے چلے جاؤ اور نرمی اور انکسار اور حسنِ اخلاق سے کام لو۔اگر تم ایسا کرو گے تو خود بخود اُن کے دلوں میں یہ احساس پیدا ہوگا کہ یہ تو بالکل اور قسم کے انسان ہیں۔ہم بُرا بھلا کہہ رہے ہیں اور یہ مسکرا رہے ہیں۔ہم سختی کر رہے ہیں اور یہ محبت اور پیار میں بڑھتے جا رہے ہیں۔تب وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہوں گے کہ یہ لوگ زمینی نہیں بلکہ آسمانی ہیں اور وہ بھی تمہارے کندھوں کے ساتھ اپنا کندھا ملا کر اسلام کی خدمت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی بلندی کے لئے کفر کے مقابلہ میں کھڑے ہو جائیں گے۔پس اے میرے عزیز و ! تم آسمانی آب حیات کی متلاشی اقوام کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم