انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 542

انوار العلوم جلد 26 542 اُس دن کو قریب سے قریب تر لانے کی کوشش سلام۔۔کے نام کی زندگی ہزاروں سال کی ہوتی ہے اور دنیا کے لوگ اگر کوشش کرتے کرتے مر بھی جائیں تب بھی وہ اُن کے نام کو مٹا نہیں سکتے۔اس کی مثالیں ہمیں روحانی پیشواؤں میں بھی دکھائی دیتی ہیں اور دنیوی بادشاہوں میں بھی نظر آتی ہیں۔سکندر جس کے ذکر سے آج تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں بیس سال کی عمر میں بادشاہ ہوا تھا اور بتیس سال کی عمر میں مر گیا۔گویا صرف بارہ سال اسے بادشاہت کے لئے ملے مگر تیس سو سال گزر گئے ہیں اور آج بھی ساری دنیا سکندر کو جانتی اور بچہ بچہ کی زبان پر اُس کا نام آتا ہے۔اسی طرح خدا نے مجھے اس مقام پر کھڑا کیا ہے کہ خواہ مخالف مجھے کتنی بھی گالیاں دیں، مجھے کتنا بھی بُرا سمجھیں بہر حال دنیا کی کسی بڑی سے بڑی طاقت کے بھی اختیار میں نہیں کہ وہ میرا نام اسلام کی تاریخ کے صفحات سے مٹا سکے۔آج نہیں آج سے چالیس پچاس بلکہ سو سال کے بعد تاریخ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ میں نے جو کچھ کہا تھا یہ صحیح کہا تھا یا غلط۔میں بیشک اُس وقت موجود نہیں ہوں گا مگر جب اسلام اور احمدیت کی اشاعت کی تاریخ لکھی جائے گی تو مسلمان مؤ رخ اس بات پر مجبور ہوگا کہ وہ اس تاریخ میں میرا بھی ذکر کرے۔اگر وہ میرے نام کو اس تاریخ میں سے کاٹ ڈالے گا تو احمدیت کی تاریخ کا ایک بڑا حصہ کٹ جائے گا۔ایک بہت بڑا خلاء واقع ہو جائے گا جس کو پُر کرنے والا اُسے کوئی نہیں ملے گا۔پس مجھے ان کے اعتراضات کی کوئی پرواہ نہیں اور نہ گالیوں اور بد زبانیوں سے میں ڈرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دشمن کہا کرتے تھے کہ تم کابل چلو تو تمہیں پتا لگے کہ تم سے کیا سلوک ہوتا ہے۔مگر ان باتوں سے کیا بن گیا ؟ اگر بندوں پر ہی میری نگاہ ہوتی تو بیشک مجھے گھبراہٹ ہو سکتی تھی مگر جس نے خدا تعالیٰ کے جلال اور جمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو اور جس نے اُس کے سینکڑوں نشانات کا مشاہدہ کیا ہو وہ دنیا پر نگاہ ہی کب رکھ سکتا ہے۔مجھے تو میرے خدا نے اُس وقت جبکہ خلافت کا سوال تک بھی نہیں تھا اور جبکہ میں قریباً پندرہ سولہ سال کا تھا الہام کے ذریعہ یہ بتا دیا تھا کہ اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ