انوارالعلوم (جلد 26) — Page 531
انوار العلوم جلد 26 531 ہمارا جلسہ سالانہ شعائر اللہ میں سے ہے۔سمجھتا ہوں جب خدا تعالیٰ نے مجھے اس عہد کی توفیق عطا فرمائی اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہماری جماعت کے ہر فرد کو بھی یہی توفیق عطا فرمائے اور اسے دین کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کی اہلیت بخشے۔یہی وہ مقصد ہے جس کو جماعت کے سامنے بار بار پیش کرنے کے لئے اس جلسہ کی بنیا د رکھی گئی ہے۔پس آپ لوگ جو اس جلسہ میں شمولیت کے لئے باہر سے تشریف لائے ہیں آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ حکمت کی ایک بات بھی بعض دفعہ انسان کی نجات کا موجب ہو جاتی ہے اس لئے ہر بات جو یہاں بیان کی جائے اُسے آپ پورے غور اور توجہ کے ساتھ سنیں اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں کیونکہ کوئی نہیں کہہ سکتا کونسی بات اس کے لئے نجات کا موجب بننے والی ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جن سے ہزاروں احادیث مروی ہیں وہ بیان کیا کرتے تھے کہ چونکہ میں بہت دیر کے بعد اسلام لایا تھا اور دوسرے لوگوں نے مجھ سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی باتیں ن لی تھیں اس لئے میں نے یہ عہد کر لیا کہ اب میں آپ کے دروازہ سے نہیں ہلوں گا۔چنانچہ وہ ہر وقت مسجد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازہ پر بیٹھے رہتے تا کہ جب بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائیں تو وہ آپ کی باتیں سننے کے لئے مسجد میں موجود ہوں۔اس طرح بعض دفعہ انہیں سات سات وقت کا فاقہ ہو جاتا مگر وہ اس خیال سے نہیں اٹھتے تھے کہ ممکن ہے کہ جس وقت میں جاؤں اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئیں اور جو کچھ آپ فرما ئیں میں اُس کے سننے سے محروم رہ جاؤں 4 آپ لوگوں کو بھی اپنے اندر عشق کا یہی جذبہ اور یہی رنگ پیدا کرنا چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ جو کچھ آپ کو سنایا جائے اُسے غور سے سنیں اور نیکی کی باتوں کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کریں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض لوگ ایسے ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آتے ہیں اور پھر وہاں سے اُٹھ کر ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس شخص نے ابھی کیا کہا تھا ؟ ؟ قرآن کریم ایسے منافقوں پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتا ہے کیونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے فائدہ نہیں اٹھاتے تھے۔آپ لوگوں کو چاہئے کہ اس نقص کو کبھی اپنے قریب بھی