انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 530

انوار العلوم جلد 26 530 ہمارا جلسہ سالانہ شعائر اللہ میں سے ہے۔قرار دے کر طرح طرح کے دکھ دیئے جاتے۔کبھی آپ پر قسم قسم کے غلط اور جھوٹے الزام لگا کر کوشش کی جاتی کہ کسی کو آپ کی بات تک سننے نہ دی جائے۔سوچو اور غور کرو کہ وہ کیسی تلخ گھڑیاں تھیں۔کیسا سخت زمانہ تھا جو آپ پر گزرا۔لیکن جب اُن دنوں کی دعاؤں اور کوششوں کے نتیجہ میں وہ بابرکت دن آئے کہ خدا تعالیٰ نے اس کے نام کو دنیا میں عزت و احترام کے ساتھ پھیلا دیا۔کامیابیوں اور فتوحات کے دروازے کھول دیئے تو وہ اپنے مالک حقیقی کے پاس پہنچ چکا تھا اور انعامات سے اور لوگ لطف اندوز ہورہے ہیں۔اس قسم کے جذبات اور خیالات نے میرے دل کو قابو میں نہ رہنے دیا اور جب بھی ہمارے سلسلہ کو کوئی فتح حاصل ہوئی اُس میں جہاں میں خوش ہوا کہ خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہوا وہاں میں غمگین بھی ہوا کہ اس وقت وہ ہستیاں نہیں ہیں جو ان فتوحات کی بانی ہیں اور جو اس بات کی مستحق ہیں کہ ہم ان کے حضور اپنے اخلاص اور عقیدت کے سچے جذبات کا اظہار کریں ، بہر حال ہم میں سے کوئی شخص اس امر سے انکار نہیں کر سکتا کہ خدا تعالیٰ کے مسیح کے ہاتھوں زمین میں ایک بیج بویا گیا اور وہ بیج ہر قسم کی مخالفانہ ہواؤں کے باوجود بڑھا اور پھولا اور پھلا یہاں تک کہ آج اُسی پیج سے ایک ایسا شاندار درخت پیدا ہو چکا ہے جس کی شاخیں آسمان تک پھیلی ہوئی ہیں اور جس پر ہزار ہا آسمانی پرندوں نے بسیرا کیا ہوا ہے۔مگر ابھی ضرورت ہے کہ ہم اپنے کام کو اور بھی وسیع کریں اور خدا تعالیٰ کے جلال اور اس کے جمال کے اظہار کیلئے اس مقدس مشن کی تکمیل میں اپنی عمریں صرف کر دیں جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس دنیا میں مبعوث ہوئے تھے۔مجھے سب سے پہلے یہ خیال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر آیا تھا۔جب آپ نے وفات پائی تو میں نے دیکھا کہ بعض لوگوں کے چہروں کی رنگت اڑ گئی اور ان کی زبانوں سے یہ الفاظ نکل گئے کہ اب کیا ہوگا۔اس وقت میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نعش کے سرہانے کھڑے ہو کر یہ عہد کیا کہ اے خدا! اگر ساری جماعت بھی خدانخواسته مرتد ہو جائے تو جس کام کے لئے خدا کا یہ پیارا دنیا میں آیا تھا اُس کے لئے میں اپنی جان تک قربان کر دوں گا۔میں اپنی زندگی کی بہترین گھڑیوں میں سے وہ گھڑی