انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 516

انوار العلوم جلد 26 516 میں اسلام کی ترقی اور اشاعت میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لو۔ہے تو دنیا کی کوئی مخالفت اُن کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتی۔وہ بے شک دنیوی لحاظ سے کمزور ہوتے ہیں مگر انہیں آسمان سے ایک بہت بڑی طاقت عطا کی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ انہیں روحانی مقاصد میں کامیاب کر دیتا ہے۔ہماری جماعت کے افراد کو بھی یہ عہد کر لینا چاہئے کہ خواہ ہم پر کتنی بڑی مشکلات آئیں اور خواہ ہمیں مال اور جانی لحاظ سے کتنی بڑی قربانیاں کرنی پڑیں پھر بھی جو کام ہمارے آسمانی آقا نے ہمارے سپرد کیا ہے ہم اس کی بجا آوری میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کریں گے اور خدائی امانت میں کوئی خیانت نہیں کریں گے۔ہمارے سپر د اللہ تعالیٰ نے یہ کام کیا ہے کہ ہم اس کی بادشاہت کو دنیا میں قائم کریں۔اور یہ اتنا بڑا اعزاز ہے کہ اس کو دیکھتے ہوئے ہمارا فرض ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اُس سے عاجزانہ طور پر عرض کریں کہ اے ہمارے آقا ! دنیا میں بڑے بڑے بادشاہ موجود تھے ، بڑے بڑے سیاستدان موجود تھے، بڑے بڑے مدبر موجود تھے، بڑے بڑے نواب اور رؤساء موجود تھے، بڑے بڑے فلاسفر اور بڑے بڑے دانشور اور علماء موجود تھے مگر تو نے ان سب کو نظر انداز کرتے ہوئے ہم غریبوں اور بیکسوں کو چنا اور اپنی بیش بہا امانت ہمارے سپرد کر دی۔اے ہمارے آقا ! ہم تیرے اس احسان کو کبھی بھلا نہیں سکتے اور تیری اس امانت میں کبھی خیانت نہیں کر سکتے۔ہم تیری بادشاہت کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے شہروں اور ویرانوں میں پھریں گے۔ہم تیرے نام کو بلند کرنے کے لئے دنیا کے کونے کونے میں جائیں گے اور ہر دُکھ اور مصیبت کے وقت میں سینہ سپر ہو کر کھڑے ہو جائیں گے۔اگر ہم یہ عزم کر لیں اور دین کے لئے متواتر قربانی کرتے چلے جائیں تو یقینا اللہ تعالیٰ ہمیں ضائع نہیں کرے گا اور اسلام اور احمدیت کو دنیا میں غالب کر دے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم سخت کمزور اور نا طاقت ہیں مگر ہمارے خدا میں بہت بڑی طاقت ہے۔اور خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جب اُس کے بندے اُس کی راہ میں خوشی سے موت قبول کر لیتے ہیں تو خدا تعالیٰ انہیں دائی حیات عطا کر دیتا ہے۔اور لوگوں کے قلوب ان کی قربانیوں کو دیکھ کر صاد ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔گویا ان کا خون جماعت کی