انوارالعلوم (جلد 26) — Page 514
انوار العلوم جلد 26 514 اسلام کی ترقی اور اشاعت میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لو۔۔۔برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاتی ہے۔اور پھر خدا تعالیٰ کی غیرت بھی یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ وہ تو خدا تعالیٰ کے لئے اپنی جانیں قربان کریں اور خدا تعالیٰ اُن کی تائید نہ کرے۔کونٹ ٹالسٹائے جو روس کا مشہور مصنف گزرا ہے اُس کے ایک دادا کے متعلق ذکر آتا ہے کہ وہ شہنشاہِ روس کی ڈیوڑھی کا دربان تھا۔ایک روز بادشاہ نے ملکی حالات پر غور کرنے کے لیے قلعہ کے دروازہ پر ٹالسٹائے کو کھڑا کیا اور کہا کہ آج خواہ کوئی شخص آئے اُس کو اندر نہ آنے دیا جائے کیونکہ آج میں ملک کے لئے ایک بہت بڑی سکیم سوچ رہا ہوں۔ٹالسٹائے پہرے پر کھڑا ہو گیا اور بادشاہ ایک بالا خانہ پر بیٹھ کر سکیم سوچنے لگ گیا۔ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ بادشاہ کو شور کی آواز سنائی دی اور وہ اُدھر متوجہ ہو گیا۔واقعہ یہ ہوا کہ شاہی خاندان کا ایک شہزادہ کسی کام کے لئے بادشاہ سے ملنے گیا مگر دربان نے اُسے اندر جانے سے روک دیا اور کہا کہ بادشاہ نے حکم دیا ہے کہ آج کوئی شخص اندر نہ آئے۔دربان کا یہ کہنا تھا کہ شہزادہ طیش میں آگیا اور اُس نے خیال کیا کہ ایک معمولی نوکر کی کیا حیثیت ہے کہ وہ اتنی گستاخی کرے اور مجھے اندر جانے سے روکے۔اُس نے کوڑا اٹھایا اور دربان کو مارنا شروع کر دیا۔دربان بیچارہ سر جھکا کر مارکھا تا رہا۔جب شہزادے نے سمجھا کہ اب اسے کافی سزا مل چکی ہے تو اس نے پھر اندر جانا چاہا۔مگر دربان پھر سامنے آ گیا اور کہنے لگا میں آپ کو اندر نہیں جانے دوں گا۔شہزادے کو خیال آیا کہ شاید دربان مجھے پہچان نہیں سکا۔اس لئے اس نے دربان سے کہا تم جانتے ہو میں کون ہوں؟ دربان نے کہا ہاں میں جانتا ہوں۔آپ شاہی خاندان کے فلاں شہزادہ ہیں۔یہ سن کر شہزادے کو اور غصہ آیا کہ باوجود جاننے کے کہ میں شہزادہ ہوں پھر بھی یہ مجھے روکنے کی جرات کر رہا ہے۔چنانچہ اُس نے پھر اسے مارنا شروع کیا۔بادشاہ یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔آخر بادشاہ نے زور سے آواز دی کہ ٹالسٹائے ! ادھر آؤ! یہ سن کر ٹالسٹائے بادشاہ کے پاس پہنچا اور اس کے پیچھے پیچھے شہزادہ بھی غصے سے بھرا ہوا بادشاہ کے پاس پہنچ گیا۔اور جاتے ہی کہا اس نالائق نے آج مجھے اندر آنے سے روکا ہے۔بادشاہ نے ٹالسٹائے سے پوچھا کیا تم نے شہزادے کو اندر آنے سے روکا تھا ؟ اس نے جواب دیا ہاں حضور میں نے