انوارالعلوم (جلد 26) — Page 512
انوار العلوم جلد 26 512 اسلام کی ترقی اور اشاعت میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لو۔۔ضروری ہے کہ ہمارا ہر فرد اپنی ان ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے جو خدا اور اس کے رسول کی طرف سے اس پر عائد ہیں ان سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرے اور اپنے اوقات کو زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت میں صرف کرے۔تا کہ جب وہ خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو تو اُس کا سر اپنی غفلتوں اور کوتاہیوں کی بناء پر ندامت اور شرمندگی سے نیچا نہ ہو۔بلکہ وہ فخر کے ساتھ کہہ سکے کہ میں نے اپنے اس فرض کو ادا کر دیا ہے جو مجھ پر اپنے رب کی طرف سے عائد کیا گیا تھا۔ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرام اپنے فرائض کو ادا کرنے کا اپنے اندر اس قدر احساس رکھتے تھے کہ ایک دفعہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائیوں کے مقابلہ کے لئے شام کی طرف اپنا لشکر روانہ فرمایا تو آپ نے فرمایا کہ میں زید بن حارثہ کو اس لشکر کا کمانڈر مقرر کرتا ہوں۔لیکن اگر زیڈ اس جنگ میں شہید ہو جائیں تو جعفر بن ابی طالب کمانڈر ہوں گے۔اور اگر جعفر بھی شہید ہو جائیں تو عبد اللہ بن رواحہ کما نڈر ہوں گے۔اور اگر عبداللہ بن رواحہ بھی شہید ہو جائیں تو پھر مسلمان خود کسی کو منتخب کر کے اپنا افسر بنا لیں 1۔جب آپ یہ ہدایات دے رہے تھے تو اُس وقت ایک یہودی بھی پاس بیٹھا آپ کی باتیں سن رہا تھا۔آپ جب اپنی بات ختم کر چکے تو وہ یہودی وہاں سے اٹھا اور سیدھا حضرت زید کے پاس پہنچا اور اُن سے کہنے لگا کہ اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سچے نبی ہیں تو تم اس جنگ سے کبھی زندہ واپس نہیں آؤ گے کیونکہ انہوں نے کہا ہے کہ اگر زیڈ جنگ میں مارے جائیں تو جعفر کو کمانڈر بنالینا۔اور اگر جعفر بھی مارے جائیں تو عبداللہ بن رواحہ کو کمانڈر بنالینا۔اور اگر عبداللہ بن رواحہ بھی مارے جائیں تو پھر کسی اور کو اپنا افسر بنا لینا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تم تینوں مارے جاؤ گے۔حضرت زیڈ نے جواب دیا کہ ہم مارے جائیں یا زندہ رہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہر حال سچے نبی ہیں۔2 آخر واقعہ بھی اسی طرح ہوا کہ جب لڑائی ہوئی تو یہ تینوں صحابہ یکے بعد دیگرے شہید ہو گئے۔حضرت عبداللہ بن رواحہ کے متعلق ذکر آتا ہے کہ جب وہ کمانڈر مقرر ہوئے تو انہوں نے اسلامی جھنڈا اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔اُس وقت میدانِ جنگ کی یہ حالت تھی