انوارالعلوم (جلد 26) — Page 498
انوار العلوم جلد 26 498 افتتاحی و اختتامی خط سالانہ 1959ء اس وقت دوارب سے زیادہ ہے اور اگلے بیس پچیس سال میں وہ تین ارب ہو جائے گی اور پھر تعجب نہیں کہ کئی سال میں وہ اس سے بھی زیادہ ہو جائے۔مگر دنیا کی آبادی خواہ کتنی بڑھ جائے اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہی ہے کہ وہ احمدیت کو ترقی دے گا اور اسے بڑھائے گا یہاں تک کہ ساری دنیا میں احمدیت پھیل جائے گی۔بشرطیکہ جماعت اپنی تبلیغی سرگرمیاں ہندوستان میں بھی اور یورپ میں بھی جاری رکھے اور وکالت تبشیر اور اصلاح وارشاد کے محکموں کے ساتھ پورا تعاون کرے۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت لاکھوں کی ہے اور لاکھوں کی جماعت میں سے ہیں پچیس ہزار مبلغ یورپ کے لئے اور پچاس ساٹھ ہزار مبلغ ہندوستان اور پاکستان کے لئے آسانی کے ساتھ مل سکتا ہے۔پس چاہئے کہ اپنی نسل میں احمدیت کی تبلیغ کا جوش پیدا کرتے چلے جائیں۔عیسائیت کو دیکھ لو حضرت مسیح کے واقعہ صلیب پر 1959 سال گزر چکے ہیں مگر عیسائی اب تک اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے چلے جاتے ہیں۔اگر مسلمان بھی تلوار کے جہاد پر زور دینے کی بجائے تبلیغ پر زور دیتے تو وہ عیسائیوں سے بہت زیادہ پھیل جاتے۔عیسائی اگر ایک ارب تھے تو وہ دس ارب ہوتے۔مگر وہ چالیس کروڑ صرف اس وجہ سے رہے کہ انہوں نے غلطی سے جہاد صرف تلوار کا جہاد سمجھ لیا اور تبلیغ کے جہاد کو فراموش کر دیا۔لیکن حضرت مسیح ناصری نے لوگوں سے یہ کہا کہ اگر کوئی شخص تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تم اپنا دوسرا گال بھی اُس کی طرف پھیر دو 15۔اور اگر کوئی تمہیں ایک میل تک بیگار میں لے جانا چاہے تو تم دو میل تک اُس کے ساتھ چلے جاؤ 16۔یہ ایسی تعلیم تھی جو دوسروں کے دلوں میں گھر کر لیتی تھی۔اگر آپ لوگ بھی نرمی اور محبت اور حلم اور آشتی پر زور دیں تو دنیا میں آپ کی جماعت عیسائیوں سے بہت زیادہ پھیل جائے گی۔کیونکہ آپ کے ساتھ دلائل ہیں اور خدا کا فضل ہے۔پس اگر دلائل کے بغیر اُن کو اتنی کامیابی ہوئی ہے تو دلائل کی وجہ سے آپ کو تو اُن کے مقابلہ میں چار گنا ترقی ملنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 1908ء میں فوت ہوئے تھے اور آپ کی وفات پر ابھی صرف 52 سال گزرے ہیں۔اگر آپ تبلیغ اسلام کرتے چلے جائیں تو یقیناً ایک دن دنیا کے چپہ چپہ پر احمدیت