انوارالعلوم (جلد 26) — Page 496
انوار العلوم جلد 26 496 افتتاحی و اختتامی خط سالانہ 1959ء رجوع ہوگا۔12 اور یہ ظاہر ہے کہ جب اُن کا اسلام کی طرف رجوع ہوگا تو چونکہ احمدیت اسلام سے جدا نہیں اس لئے لازماً وہ لوگ احمدیت کو قبول کریں گے اور بجائے دشمن ہونے کے قادیان کو آباد کرنے کی کوشش کریں گے۔ہماری عمریں تو محدود ہیں ، ہماری اصل تمنا یہی ہے کہ اسلام اور احمدیت دنیا میں پھیلے اور ہمیں خدا تعالیٰ کے وعدوں سے یہ امید ہے کہ ہماری عمروں میں ہی اسلام دنیا کے کناروں تک پھیل جائے گا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بتایا گیا تھا کہ مصلح موعود کے زمانہ میں اسلام بہت ترقی کرے گا۔مگر اس کے لئے یہ ضروری شرط ہے کہ آپ لوگ اپنے ایمانوں کو مضبوط کرتے جائیں اور اپنی اولادوں کے اندر بھی اس کو راسخ کرتے جائیں تا کہ آپ کی ترقی آپ کی ترقی نہ ہو بلکہ اسلام کی ترقی ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کی ترقی ہو۔“ اسی طرح آپ نے فرمایا: دو دفعہ ہم نے رویا میں دیکھا کہ بہت سے ہندو ہمارے آگے سجدہ کرنے کی طرح جھکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اوتار ہیں اور کرشن ہیں اور ہمارے آگے نذریں دیتے ہیں۔13 اس سے پتا لگتا ہے کہ ہندوؤں میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت قائم ہو جائے گی اور سارا ہندوستان آپ کے کرشن ہونے کے لحاظ سے اور ساری دنیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز ہونے کے لحاظ سے آپ کے تابع ہو جائے گی۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم ایک طرف تو یورپ اور امریکہ والوں کو بتائیں کہ اسلام سچا مذہب ہے اور اس کے قبول کرنے میں ہی تمہاری نجات ہے اور دوسری طرف ہندوؤں میں تبلیغ اسلام پر زور دیں اور انہیں اسلام میں داخل کرنے کی کوشش کریں اور اُس وقت تک صبر نہ کریں جب تک ساری دنیا کومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لا کر نہ ڈال دیں۔اسی غرض کے لئے میں نے جماعت میں تحریک جدید کے علاوہ وقف جدید کی تحریک بھی جاری کی ہوئی ہے تاکہ سارے پاکستان میں ایسے معلمین کا جال بچھ جائے جولوگوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام کریں اور انہیں اسلام اور احمدیت کی تعلیم سے روشناس کریں۔