انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 490

انوار العلوم جلد 26 490 افتتاحی و اختتامی خطا سالانہ 1959ء اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھیں اور اپنی اولاد در اولاد کو نصیحت کرتے چلے جائیں کہ انہوں نے اسلام کی تبلیغ کو کبھی نہیں چھوڑنا اور مرتے دم تک اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھنا ہے۔اسی مقصد کو پورا کرنے اور اسلام کے نام کو پھیلانے کے لئے میں نے تحریک جدید جاری کی ہے جو چھپیں سال سے جاری ہے اور جس کے ماتحت آج دنیا بھر کے تمام اہم ممالک میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے تبلیغی مشن قائم ہیں اور لاکھوں لوگوں تک خدا اور اس کے رسول کا نام پہنچایا جا رہا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تبلیغی مراکز کو وسیع کرنے اور مبلغین کا جال پھیلانے میں ہمیں خدا تعالیٰ نے بڑی بھاری کامیابی عطا کی ہے۔مگر ابھی اس میں مزید ترقی کی بڑی گنجائش ہے اور ابھی ہمیں ہزاروں واقفین زندگی کی ضرورت ہے جو دنیا کے چپہ چپہ پر اسلام کی تبلیغ کریں۔ہماری جماعت اب خدا تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں کی ہے اور لاکھوں کی جماعت میں ساٹھ ہزار واقفین زندگی کا میتر آنا کوئی مشکل امر نہیں۔اور اگر ایک آدمی سواحمدی بنائے تو ساٹھ ہزار واقفین زندگی کے ذریعہ ساٹھ لاکھ احمدی ہو سکتا ہے۔پھر ساٹھ لاکھ میں سے چار پانچ لاکھ مبلغ بن سکتا ہے۔اور چار پانچ لاکھ مبلغ چار پانچ کروڑ احمدی بنا سکتا ہے۔اور چار پانچ کروڑ احمدی اگر زور لگائے تو وہ اپنی تعداد کو چار پانچ ارب تک پہنچا سکتا ہے جو ساری دنیا کی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔لیکن دوستوں کو یہ امر بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے کرشن بھی قرار دیا ہے اور آپ کا الہام ہے کہ وو ہے کرشن رو در گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔اس الہام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کرشن اور رو در گوپال قرار دیا گیا ہے۔رُو در کے معنے ہوتے ہیں درندوں اور سؤروں کو قتل کرنے والا۔اور گوپال کے معنے ہوتے ہیں گائیوں کو پالنے والا۔یعنی نیک طبع لوگوں کی خدمت کرنے والا۔اس میں بتایا گیا ہے کہ مسیح موعود ایک طرف تو دلائل اور نشانات سے اپنے دشمنوں کو ہلاک کرے گا