انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 469

انوار العلوم جلد 26 469 خدام الاحمدیہ کے نام روح پرور پیغام بروز تھے جو تمام نبیوں سے افضل تھے اور حضرت نوح بھی ان میں شامل تھے۔پس اگر نوح کو ساڑھے نو سو سال عمر ملی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز اور آپ کے غلام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تو ساڑھے نو ہزار سال عمر ملنی چاہئے اور اس عرصہ تک ہماری جماعت کو اپنی تبلیغی کوششیں وسیع سے وسیع تر کرتے چلے جانا چاہئے۔میں اس موقع پر وکالت تبشیر کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بیرونی مشنوں کی رپورٹیں با قاعدگی کے ساتھ شائع کیا کرے تا کہ جماعت کو یہ پتا لگتا ر ہے کہ یورپ اور امریکہ میں اسلام کی اشاعت کے لئے کیا کیا کوششیں ہو رہی ہیں اور نو جوانوں کے دلوں میں اسلام کے لئے زندگیاں وقف کرنے کا شوق پیدا ہو۔مگر جہاں یورپ اور امریکہ میں تبلیغ اسلام ضروری ہے وہاں پاکستان اور ہندوستان میں اصلاح و ارشاد کے کام کو وسیع کرنا بھی ہمارے لئے ضروری ہے جس سے ہمیں کبھی غفلت اختیار نہیں کرنی چاہئے۔دنیا میں کوئی درخت سرسبز نہیں ہو سکتا جس کی جڑھیں مضبوط نہ ہوں۔پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم پاکستان اور ہندوستان میں بھی جماعت کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ کی مثال ایک ایسے درخت سے دی ہے جس کا تنا مضبوط ہو اور اُس کے نتیجے میں اُس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہوں 4۔یعنی ایک طرف تو سچے مذہب کے پیرو اپنی کثرت تعداد کے لحاظ سے ساری دنیا میں پھیل جائیں اور دوسری طرف خدا تعالیٰ اس کے ماننے والوں کو اتنی برکت دے کہ آسمان تک ان کی شاخیں پہنچ جائیں۔یعنی ان کی دعائیں کثرت کے ساتھ قبول ہونے لگیں اور ان پر آسمانی انوار اور برکات کا نزول ہو۔یہی فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ کے معنی ہیں۔کیونکہ جو شخص آسمان پر جائے گا وہ خدا تعالیٰ کے قریب ہو جائے گا اور چونکہ خدا تعالیٰ کا کوئی جسمانی وجود نہیں اس لئے اس کے قریب ہونے کے یہی معنے ہو سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس کی دعائیں سنے گا۔حدیثوں میں بھی آتا ہے کہ مومن جب رات کو تہجد کے وقت دعائیں کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان دعاؤں کو قبولیت کے لئے آسمان سے اتر آتا ہے۔پس ضروری ہے کہ تمام جماعت کے اندر ایسا اخلاص پیدا ہو کہ اس کی دعائیں