انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 456

انوار العلوم جلد 26 456 سیر روحانی (12) تو اس میں ایسا شخص پیدا کرے گا جو اُس میں فساد کرے گا اور لوگوں کا خون بہائے گا ؟ اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ہم نے تو آدم کو پیدا ہی اِس لئے کیا ہے کہ وہ دنیا سے فساد دُور کرے۔خلیفہ ہونا تو الگ چیز ہے اس کی پیدائش ہی فساد کو دُور کرنے والی تھی۔دوسری مثال اس کی حضرت نوح علیہ السلام کی ہے۔بائبل سے پتا لگتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے باپ بڑے نیک آدمی تھے۔انہوں نے الہام الہی سے نوح کا نام نوح رکھا تھا جس کے معنے ہیں نوحہ کرنے والا۔اس میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ دنیا میں اُن کے زمانہ میں ایک عالمگیر عذاب آئے گا جس سے وہ خود تو بچ جائیں گے مگر اُن کی قوم تباہ ہو جائے گی اور وہ اپنی قوم کے تباہ ہونے پر نوحہ کریں گے۔قرآن کریم نے بھی اس کی تصدیق کی ہے اور حضرت نوح علیہ السلام کے نام کا ذکر کر کے اس تو جیہہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔قرآن کریم میں آئندہ زمانہ کی تاریخ قرآن کریم میں آئندہ زمانہ کی تاریخ بھی بیان کی گئی ہے۔چنانچہ ا اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے قُل لِلْمُخَلَّفِينَ مِنَ الْأَعْرَابِ سَتَدْعَوْنَ إِلَى قَوْمِ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ 83 دوسری کتابیں تو صرف پچھلا حال بیان کرتی ہیں لیکن قرآن کریم ایسی کتاب ہے جو آئندہ زمانہ کا حال بھی بیان کرتی ہے۔چنانچہ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اے مسلمانو ! آئندہ زمانہ میں رومیوں اور ایرانیوں کے ساتھ تمہاری جنگیں ہوں گی اور وہ عرب جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سستی دکھائی تھی وہ اپنے دھتے دھوسکیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔یا تو وہ وقت تھا کہ رومی اور ایرانی مسلمانوں کو بڑا حقیر سمجھتے تھے اور قابل التفات ہی نہیں سمجھتے تھے اور یا پھر وہ زمانہ آیا کہ ایران اور روم دونوں نے مسلمانوں پر حملہ کیا اور اس بات سے خائف ہو گئے کہ مسلمان اُن کے ملک میں نہ گھس آئیں۔لیکن اس آیت کے مطابق حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مسلمانوں نے ان دونوں ملکوں پر فتح حاصل کی اور وہ عرب جو پہلے کمزوریاں دکھا رہے تھے انہوں نے