انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 454

انوار العلوم جلد 26 454 سیر روحانی (12)۔فرمایا جو شخص دوسرے کے ماں باپ کو گالیاں دیتا ہے وہ گویا اپنے ماں باپ کو گالیاں دیتا ہے کیونکہ دوسرا شخص جوش میں آ کر اس کے ماں باپ کو گالیاں دینے لگ جائے گا۔غرض اللہ تعالیٰ نے عِلمُ الاخلاق کا بھی ذکر فر ما دیا ہے۔عیسائی بڑا نا ز کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ تم دوسرے کیلئے بھی وہی بات پسند کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو۔حالانکہ قرآن کریم بھی کہتا ہے کہ دوسروں کے بتوں وغیرہ کو گالیاں نہ دو۔ورنہ اگر تم اُن کے معبودوں کو گالیاں دو گے تو وہ جواباً تمہارے خدا کو گالیاں دیں گے اور پھر تمہیں اس پر چڑنے یا بُرا منانے کا کوئی حق نہیں ہوگا کیونکہ ابتدا تمہاری طرف سے ہوئی ہوگی۔لیکن اگر ا بتدا دوسروں کی طرف سے ہوئی ہو اور وہ تمہارے معبود کو گالیاں دیں تو پھر بیشک وہ ظالم ہوں گے لیکن اگر پہل تمہاری طرف سے ہو اور تم کسی کے معبود کو گالیاں دو اور وہ جوابا تمہارے خدا کو بھی گالیاں دینے لگ جائے تو تمہیں اس پر چڑنے کا کوئی حق نہیں ہوگا کیونکہ اسے جواب دینے والا سمجھا جائے گا ظلم کرنے والا نہیں سمجھا جائے گا۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے ایک دفعہ ایک صحابی نے ایک یہودی کے سامنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسے طور پر ذکر کیا کہ آپ کی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت ثابت ہوتی تھی۔اس سے بہر حال اس یہودی کو تکلیف ہوئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہو ا تو آپ نے فرمایا لَا تُخَيَّرُونِي عَلَى مُوْسَی - 77 مجھے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اس طرح فضیلت نہ دیا کرو کہ اس سے کوئی جھگڑا پیدا ہو جائے۔قرآن کریم میں عِلْمُ الإِنسَان کا ذکر عِلْمُ الْإِنْسَان بھی ایک نہایت ضروری علم ہے جس کو انگریزی میں ANTHROPOLOGY کہتے ہیں اور لوگوں نے اس علم پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔قرآن کریم نے بھی اس پر بحث کی ہے اور اس نے ابوالبشر کا نام آدم رکھا ہے۔یعنی وہ پہلا انسان تھا جس نے سطح زمین پر رہنا شروع کیا۔تاریخ بتاتی ہے کہ آدم سے پہلے جو لوگ تھے وہ غاروں میں چُھپ کر رہتے تھے تا کہ کہیں شیر اور بھیڑیے اُنہیں کھا نہ جائیں۔پھر جب تمدن نے ترقی کی اور حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعہ لوگوں نے ایک دوسرے