انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 445

انوار العلوم جلد 26 445 سیر روحانی (12) ہیں کیونکہ اس زمانہ میں جب بادشاہت ختم ہونے لگی تو جمہوریت پر زور دینا شروع کر دیا گیا۔قرآن کریم نے بھی اس کا ذکر فرمایا ہے۔جمہوریت کا بڑا اصل ، مشورہ ہے۔دیکھو ہر نبی اپنی امت کا افسر ہوتا ہے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب نبیوں کے سردار ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ اگر موسی اور عیسی بھی میرے زمانہ میں زندہ ہوتے تو اُن کو بھی میری اتباع کرنی پڑتی۔52 اب دیکھو جس نبی کی اتباع کی ضرورت دوسرے انبیاء کو بھی ہے اُس کو مشورہ کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے۔مگر خدا تعالیٰ قرآن کریم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے کہ وَشَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ - 53 یعنی اہم معاملات میں اپنی جماعت هر سے مشورہ کر لیا کر۔اسی طرح مؤمنوں کی ایک صفت قرآن کریم میں یہ بیان کی گئی ہے کہ اَمْرُهُمْ شُوْرُى بَيْنَهُمُ 54 وہ جب کبھی کوئی کام کرتے ہیں تو مشورہ سے کرتے ہیں۔لیکن بعض لوگوں نے فتنہ پیدا کرنے کے لئے اس سے بھی ناجائز فائدہ اُٹھایا ہے۔چنانچہ خارجیوں نے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغاوت کی تو انہوں نے اس آیت کو ایک چیلنج کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔انہوں نے کہا ہمیں کسی خلیفہ کی ضرورت نہیں۔الْحُكْمُ لِلَّهِ 55 والا مُرُ شُوری بَيْنَنَا - 56 حکم تو خدا تعالیٰ کا چلے گا اور ہم آپس میں مشورہ کر کے حکومت کریں گے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا تو آپ نے فرمایا۔كَلِمَةُ حَق اُرِيدَ بِهَا بَاطِلٌ - 57 یعنی بات تو بڑی سچی ہے لیکن اسے بری نیست سے استعمال کیا جا رہا ہے۔غرض مؤمنوں کا یہ طریق ہے کہ وہ ہراہم معاملہ کو باہمی مشورہ سے طے کرتے ہیں اور ڈکٹیٹر شپ سے کام نہیں لیتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کا اپنا طریق عمل یہ تھا کہ آپ ہر اہم معاملہ میں صحابہ سے مشورہ کیا کرتے کا صحابہ سے مشورہ لینا تھے۔جنگ بدر کے موقع پر آپ نے مشورہ لیا تو صحابہ میں سے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! ہمیں موسی کی جماعت کی طرح نہ سمجھیں۔جنہوں نے یہ کہہ دیا تھا کہ فَاذْهَبُ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّاهَهُنَا قَاعِدُونَ - 58 جاتو اور تیرا رب دونوں لڑتے