انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 435

انوار العلوم جلد 26 435 سیر روحانی (12) آتا ہے وَلُوطًا أَتَيْنَهُ حُكْمًا وَ عِلْمًا وَ نَجَّيْنُهُ مِنَ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ تَعْمَل الْخَبيثَ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمَ سَوْءٍ فَسِقِينَ وَأَدْخَلْتُهُ فِي رَحْمَتِنَا إِنَّهُ مِنَ الصُّلِحِيْنَ۔34 یعنی ہم نے کوٹ کو حکم بھی دیا اور علم بھی۔اور ہم نے اُس کو ایسی بستی سے نجات دی جو نہایت ہی گندے کام کرتی تھی۔گویا بائبل تو کہتی ہے کہ اپنی بستی سے نکل کر خود لُوط علیہ السلام نے ہی گندے کام کرنے شروع کر دیئے تھے اور قرآن کریم کہتا ہے کہ لوط کی قوم فسق و فجور میں مبتلا تھی۔کو ظ کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا تھا اور وہ ہمارے نیک بندوں میں سے تھا۔اس طرح قرآن کریم نے تاریخ انبیاء بھی بیان کر دی اور بائبل میں جو جھوٹی باتیں داخل ہوگئی تھیں اُن کا بھی رڈ کر دیا۔36 ہاں قرآن کریم نے حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کے متعلق یہ بیان فرمایا ہے کہ وہ عذاب کا شکار ہو گئی تھی۔چنانچہ فرماتا ہے فَنَجَّيْنُهُ وَأَهْلَةٌ أَجْمَعِينَ إِلَّا عَجُوْزًا في الْخَبِرِینَ۔35 یعنی ہم نے کوٹ کو اور اُس کے تمام اہل کو بچا لیا تھا سوائے ایک بوڑھی عورت کے جو غا برین سے تھی۔غبر کے معنی عربی زبان میں حقد یعنی کینہ کے ہوتے ہیں۔26 پس یہ لفظ استعمال کر کے قرآن کریم نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی میں بڑھیا ہونے کے باوجود نا جائز شر باقی تھا اور وہ آپ کے متعلق کینہ اور بغض رکھتی تھی۔اس کا تعلق اُن لوگوں کے ساتھ تھا جو حضرت لوط علیہ السلام کے مخالف تھے اس لئے وہ عذاب سے نہ بچائی گئی۔اب دیکھو! حضرت لوط علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبی ہیں لیکن قرآن کریم اُن کی براءت کرتا ہے۔گویا دا دا تو وہ کسی اور قوم کا ہے لیکن اُس کی طرف سے لڑائی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کر رہے ہیں۔حضرت کو ظ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے اور عرب اپنے آپ کو حضرت اسماعیل کی نسل قرار دیتے تھے۔حضرت لوط سے اُن کا کوئی تعلق نہیں تھا لیکن یہودی قوم کا حضرت لوط علیہ السلام سے قریبی رشتہ ہے مگر انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام پر الزام لگا دیا اور کہا وہ بد کا رتھا۔لیکن قرآن کریم نے کہا کہ حضرت لوط علیہ السلام ایک بزرگ اور خدا رسیدہ انسان تھے اور اُن پر یہ محض جھوٹا الزام لگایا گیا ہے۔