انوارالعلوم (جلد 26) — Page 425
انوار العلوم جلد 26 425 سیر روحانی (12) حقیقتا آپ سب انبیاء کے مثیل تھے۔آپ مثیلِ آدم بھی تھے کیونکہ آپ کے ذریعہ ایک نئی نسل چلی۔حضرت آدم علیہ السلام کو صرف اتنی فضیلت حاصل ہے کہ اُن کے ذریعہ سے اور بشر پیدا ہوئے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے آدم ہوئے کہ آپ کے ذریعہ سے ایک ایسی نسل چلی جو تمام انسانوں سے ممتاز تھی جیسے حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد تمام جانوروں سے ممتاز تھی۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ دین تھا جو دین فطرت تھا اور آپ کو ایسی تعلیم ملی تھی جس میں ساری دنیا کے ساتھ حسن سلوک کا حکم تھا۔اسی طرح آپ مثیلِ نوح بھی تھے کیونکہ آپ کی قوم پر بھی ایسا ہی طوفان آیا جیسے نوح علیہ السلام کی قوم پر آیا تھا اور اس سے وہی بچے جو آپ کی کشتی میں بیٹھے تھے۔اب میں کتب خانوں کی تاریخی نقطہ نگاہ سے قرآنی کتب خانہ پر نظر مناسبت سے سب سے پہلے تاریخ کو لیتا ہوں اور بتا تا ہوں کہ باوجود اس کے کہ دنیا میں بہت سی تاریخ کی کتابیں موجود ہیں پھر بھی قرآن کریم نے جو تاریخ پیش کی ہے اس کی مثال دنیا کی کوئی تاریخی کتاب پیش نہیں کر سکتی۔اس بارہ میں میں سب سے پہلے تاریخ وحی و رسالت کو لیتا تاریخ وحی و رسالت ہوں۔قرآن کریم نے اصولی طور پر یہ بات بیان کی ہے كه ان مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ 160 یعنی دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی ہدایت دینے والا نہ آیا ہو۔اسی طرح فرماتا ہے وَ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍن 17 ہر ایک قوم میں کوئی نہ کوئی ہادی گزرا ہے۔نذیر کے معنے نبی کے بھی ہوتے ہیں مگر نذیر کے لغوی معنے ڈرانے والے کے ہوتے ہیں۔یعنی جب قوم سوئی ہوئی ہوتی ہے تو وہ انہیں آ کر ہوشیار کرتا ہے 18۔اس کے معنے زیادہ تر ریفارمر (REFORMER) کے بھی سمجھے جاسکتے ہیں۔مگر ہادی کے معنوں میں نبوت زیادہ واضح ہے اور یوں قرآنی محاورہ کے مطابق بھی اور لغت کے لحاظ سے بھی نذیر کے معنے نبی کے بھی ہوتے ہیں۔غرض قرآن کریم نے بتایا ہے کہ دنیا کی ہر قوم میں کوئی نہ کوئی نبی یا کم از کم کوئی ریفار مرضرور آیا۔