انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 419

انوار العلوم جلد 26 419 سیر روحانی (12) لکھ دیا ہے۔لیکن اگر بڑے حجم والے قرآن کریم بھی دیکھے جائیں تو وہ چھ سات سو صفحات میں ختم ہو جاتے ہیں لیکن بائبل اور اناجیل اس سے بہت بڑی ہیں۔بہر حال قرآن کریم نے جو کچھ کہا ہے کہ اس میں تمام سماوی اور الہامی کتب موجود ہیں دین کو قائم رکھنے والی تمام تعلیمیں موجود ہیں، اسی طرح تمام ضروری علوم موجود ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام کتب اور علوم اپنی پوری تفصیل کے ساتھ قرآن کریم میں موجود ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم میں اُن تمام سچائیوں کے اصول بیان کر دیئے گئے ہیں اور اُن میں جو غلطیاں اور زوائد تھے اُن کی اصلاح کر دی گئی ہے۔زمین و آسمان کی پیدائش چھ دنوں مثال کے طور پر مئیں اس بات کو لیتا دوره " ہوں کہ بائبل میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ میں نہیں بلکہ چھ یوم میں ہوئی ہے نے زمین وآسمان کو چھ دنوں میں پیدا کیا ہے اور ساتویں دن آرام کیا حالانکہ تمام سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ زمین و آسمان چھ دنوں میں پیدا نہیں ہوئے بلکہ وہ اس عرصہ کو چھ یوم سے بھی آگے لے جاتے ہیں۔قرآن کریم میں اس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے ” یوم “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور عربی زبان میں ”یوم “ کے معنے دن کے نہیں ہوتے بلکہ وقت کے ہوتے ہیں۔پس قرآن کریم بر بتاتا ہے کہ زمین و آسمان چھ وقتوں یا چھ درجوں میں پیدا کئے گئے ہیں۔گویا قرآن کریم میں زمین و آسمان کی پیدائش کے دن بیان نہیں کئے گئے بلکہ چھ درجے بیان کئے گئے ہیں۔دنوں کے لحاظ سے بعض لوگوں نے اُن کا شمار جمعہ سے کیا ہے اور بعض لوگوں نے ہفتہ سے اُن کا شمار کیا ہے اور بعض نے اس کے بعد اتوار سے شمار کیا ہے۔یہودی لوگ ہفتہ کو سبت " مانتے ہیں اور مسلمان جمعہ کو سبت شمار کرتے ہیں جو آرام کا دن ہے اور 66 66 عیسائیوں اور ہندوؤں میں ”سبت اتوار کا دن ہے۔”سبت ، در حقیقت ہفتہ کا ہی دن تھا مگر جب رومی بادشاہ عیسائیت میں داخل ہوا تو اُس نے پادریوں کی ایک کونسل بٹھائی اور اُس کے سامنے یہ مسئلہ رکھا کہ رومی لوگ نہ تو ایک خدا کو مانیں گے کیونکہ وہ تثلیث کے قائل ہیں اور نہ وہ ”سبت ہفتہ کو مانیں گے اس لئے یہاں عیسائیت کا پھیلنا مشکل