انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 414

انوار العلوم جلد 26 414 سیر روحانی (12) میری طبیعت پر بڑا اثر ہوا کہ مسلمان کسی وقت کتنے طاقتور تھے اور اس وقت وہ کتنے کمزور اور ناتواں ہیں۔یہ 1938 ء کی بات ہے جبکہ ابھی انگریز حاکم تھے، بھارت کی حکومت ابھی قائم نہیں ہوئی تھی۔مگر انگریزوں نے غدر کے واقعات سے دھوکا کھا کر مسلمانوں کو ذلیل کرنا شروع کر دیا تھا اور عملی طور پر ہندوستان کے بادشاہ ہندو تھے۔میرے دل پر اس کا بڑا اثر تھا۔میں ایک دن سیر کرنے کے لئے نکلا تو غیاث الدین تغلق کے مقبرہ کے سامنے ایک ٹیلہ تھا، میں اپنی بیوی، بہن اور لڑکی کو لے کر اُس ٹیلہ پر چڑھ گیا۔وہاں سے لال قلعہ بھی نظر آتا تھا، فیروز شاہ کی لاٹ بھی نظر آتی تھی ، قطب صاحب کا مینار بھی سامنے تھا اور پیچھے تعلق بادشاہوں کی قبریں تھیں جو کسی وقت ہندوستان پر حکمران رہ چکے تھے ان کو دیکھ کر میرے دل پر یہ اثر ہوا کہ گجا وہ حالت تھی کہ مسلمانوں کی شان وشوکت حیدر آباد تک پھیلتی چلی گئی تھی اور میں سارے علاقہ میں اُن کی شوکت کے آثار دیکھتا چلا آ رہا ہوں اور گجا یہ حالت ہے کہ مسلمانوں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔لاہور کے ایک انگریز ڈپٹی کمشنر کا واقعہ بیشک اس میں مسلمانوں کا اپنا بھی قصور تھا مگر پھر بھی یہ ایک نہایت دردناک حالت تھی۔چنانچہ 1927ء میں لاہور کا ایک انگریز ڈپٹی کمشنر جو کسی زمانہ میں گورداسپور بھی رہ آیا تھا اور ہماری جماعت کی بہت تعریف کیا کرتا تھا اُس کے پاس ایک فساد کے موقع پر جبکہ سکھوں نے لاہور کے کچھ مسلمانوں کو جو مسجد سے نماز پڑھ کر نکل رہے تھے مار دیا تھا، میں نے خانصاحب ذوالفقار علی خانصاحب کو بھیجا اور کہا کہ آپ تو مسلمانوں کے بڑے خیر خواہ تھے لیکن اس فساد میں ہندوؤں نے مسلمانوں پر ظلم کیا ہے اور آپ نے اُلٹا مسلمانوں کو پکڑ لیا ہے۔وہ کہنے لگا میں آپ کو کیا بتاؤں کہ مسلمان کتنے بیوقوف ہیں۔میں واقع میں مسلمانوں کا خیر خواہ تھا مگر جو کچھ میرے ساتھ گزرا وہ آپ کو معلوم نہیں۔میں گورداسپور سے ملتان جا کر لگا ، وہاں میں نے مسلمان لیڈروں کو بلوایا اور کہا کہ میں نے جو پُرانے فائل دیکھے ہیں اُن سے پتا لگتا ہے کہ ہندوؤں نے مسلمانوں پر بڑے بڑے ظلم کئے ہیں مگر میں بحیثیت ڈپٹی کمشنر گورنمنٹ کا ملازم ہوں اور کسی کو یہ پتا نہیں