انوارالعلوم (جلد 26) — Page 399
انوار العلوم جلد 26 399 حُسنِ سلوک کرنے کا حکم ہے تو غریب مرزائی کو کیوں سزادی جائے۔تو یہ تبلیغ کا ایک نہایت ہی کامیاب ذریعہ ہے اس کی طرف خاص توجہ کرنی چاہئے۔میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ ہمارے ایک دوست شیر محمد یکہ بان ہوتے تھے۔وہ کا ٹھ گڑھ کے رہنے والے تھے۔انہوں نے ایک سو سے زیادہ احمدی کیا تھا۔ان کی تبلیغ کا یہ طریق تھا کہ وہ الحکم منگوایا کرتے تھے وہ ان پڑھ تھے لیکن الحکم جیب میں ڈالے رکھتے تھے اور جو آدمی پڑھا لکھا کہ میں بیٹھتا اُسے کہتے بھائی جی! مجھے یہ اخبار پڑھ کر سنائیں۔وہ شخص الحکم پڑھنا شروع کرتا اور اُس پر اثر ہونا شروع ہو جاتا۔اور یا تو وہ سخت مخالف ہوتا تھا اور یا پھر گھر پہنچ کر لکھتا مجھے پتا لکھوا دو میں نے بھی یہ اخبار منگوانا ہے اس میں بہت اچھی باتیں ہیں۔وہ پھر تھوڑے دنوں کے بعد آتا اور کہتا میری بیعت کا خط لکھ دو۔اس طرح انہوں نے سو سے زیادہ احمدی کئے۔اگر الحکم دلوں پر اثر کر سکتا ہے تو قرآن سے تو یقیناً بہت زیادہ فائدہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ ایسی برکت دے گا کہ لوگوں کے دل بالکل صاف ہو جائیں گے۔اور جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے آج جو تمہارے دشمن ہیں کل وہ تم پر جان قربان کرنے لگ جائیں گے۔اور اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری خود حفاظت فرمائے گا۔قادیان کے قریب را جپورہ میں ہماری کچھ زمین تھی۔ایک دفعہ میں وہ زمین دیکھنے گیا وہاں ایک عیسائی ہمارے تعاقب میں پہنچ گیا۔وہ اس نیت سے راجپورہ گیا کہ مجھے مار ڈالے لیکن وہاں سے وہ نا کام واپس آیا اور گھر آ کر اسے پتا لگا کہ اُس کی بیوی بد کا ر ہے اس نے اسے مار دیا اور اس کے نتیجہ میں پھانسی کے تختہ پر لڑکا یا گیا۔عدالت میں اس نے بتایا کہ راجپورہ میں مرزا صاحب کو مارنے گیا تھا لیکن جب میں وہاں گیا تو ان کے ایک محافظ (یحیی خان مرحوم ) بندوقیں صاف کر رہے تھے۔میں نے خیال کیا کہ میرے پاس تو ایک بندوق ہے اور ان کے پاس کئی بندوقیں ہیں میں یہاں سے بیچ کر نہیں جاؤں گا۔چنانچہ میں وہاں سے بھاگ آیا۔گھر آیا تو مجھے پتا لگا کہ میری بیوی بد کا ر ہے۔اس پر میں نے اسے مار دیا ورنہ مارنے میں مرزا صاحب کو گیا تھا۔تو اللہ تعالیٰ جب حفاظت کرتا