انوارالعلوم (جلد 26) — Page xlv
انوار العلوم جلد 26 34 تعارف کتب تو جلسہ کے تین دن رکھے گئے ہیں۔اگر ان تین دنوں میں بھی آپ کے اندر کوئی تغیر پیدانہ ہو تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ آپ کتنے بڑے گھاٹے میں رہیں گے۔پس یہ ایام بہت زیادہ فکر کے ساتھ بسر کریں اور اٹھتے بیٹھتے دعاؤں اور ذکر الہی پر زور دیں۔تقریروں سے فائدہ اٹھائیں اور سلسلہ کی ضروریات کا علم حاصل کر کے ان میں حصہ لینے کی کوشش کریں" اخیر میں حضور نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اسلام کے غلبہ کا ذکر فرما کر احباب کو نصیحت فرمائی کہ اس زمانہ میں اسلام کا غلبہ اب جماعت احمدیہ کے ذریعہ ہو کر رہے گا۔اس لئے اپنے آپ میں اخلاص اور ایمان کی چاشنی پیدا کرنی ہوگی۔1962ء کے آخری روز بھی حضرت مصلح موعود بوجہ علالت طبع خود تشریف نہ لا سکے۔آپ کا حاضرین جلسہ کے نام تحریر کردہ روح پرور پیغام حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے پڑھ کر سنایا: حضور کا یہ پیغام تبلیغ تعلیم و تربیت پر مشتمل تھا۔آغاز میں حضور نے تمام دنیا میں پیغام حق پہنچانے کے لئے احباب کو فر مایا: "دنیا کے اکثر ممالک میں ہمارے مشن قائم ہو چکے ہیں اور ہزار ہا لوگ جو اس سے پہلے شرک میں مبتلا تھے یا عیسائیت کا شکار ہو چکے تھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے لگ گئے ہیں۔لیکن ان تمام نتائج کے باوجود یہ حقیقت ہمیں کبھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ دنیا کی اس وقت اڑھائی ارب کے قریب آبادی ہے اور ان سب کو خدائے واحد کا پیغام پہنچانا اور انہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ بگوشوں میں شامل کرنا جماعت احمدیہ کا فرض ہے۔پس ایک بہت بڑا کام ہے جو ہمارے سامنے ہے اور بڑا بھاری بوجھ ہے جو ہمارے کمزور کندھوں پر ڈالا گیا ہے۔اتنے اہم کام میں اللہ تعالی کی معجزانہ تائید اور نصرت کے سواہماری کامیابی کی کوئی صورت نہیں۔ہم اس کے عاجز اور حقیر بندے ہیں اور ہمارا کوئی