انوارالعلوم (جلد 26) — Page 395
انوار العلوم جلد 26 395 یڈل پاس لڑکے بھی لئے جا سکتے ہیں اس لئے ہماری جماعت جو باقی سب جماعتوں سے تعلیم میں بہت زیادہ ہے وہ آسانی کے ساتھ اس تعلیم والے دس پندرہ ہزار مبلغ پیش کرسکتی ہے۔امید ہے کہ جماعت کے افراد اس طرف خاص توجہ کریں گے اور ملک کی جہالت کو دور کرنے میں مددکریں گے۔مجھے بعض لوگوں کی درخواستیں آتی ہیں لیکن ان میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ میں اپنا لڑکا جس کی عمر اڑھائی سال کی ہے وقف جدید میں پیش کرتا ہوں۔حالانکہ جو بچہ اڑھائی سال کا ہے اور جو بولتا بھی نہیں اس نے تبلیغ کیا کرنی ہے یا تعلیم کیا دینی ہے۔بے شک ہم نے تعلیم کا معیار کم رکھا ہے لیکن عمر کم نہیں کی۔بڑا آدمی ہو تو چاہے وہ پرائمری پاس ہی ہو کام کر سکتا ہے لیکن جو شخص اپنا اڑھائی سال کا بچہ وقف کرتا ہے وہ دین پر جھوٹا احسان کرتا ہے۔امید ہے کہ جماعت کے افراد اس طرف خاص توجہ کریں گے اور ملک کی جہالت کو دور کرنے میں مدد کریں گے۔اسی طرح ملک کی بیماریوں کے دور کرنے میں بھی مدد کریں گے کیونکہ وقف جدید کے واقفین اپنے علاقہ میں تعلیم بھی دیتے ہیں اور بیماروں کا دیسی اور ہومیو پیتھک علاج بھی کرتے ہیں۔گو حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ہمیں کافی ڈاکٹر مل گئے ہیں لیکن ہمارے ملک کی آبادی کے لحاظ سے ان کی تعداد بھی کافی نہیں۔چنانچہ میرے پاس کئی احمدی ڈاکٹروں کے خط آتے ہیں کہ ہماری عمر ریٹائر ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے لیکن محکمہ ہمیں ریٹائر نہیں کرتا۔جس سے پتا لگتا ہے کہ ابھی محکمہ کے پاس کافی ڈاکٹر نہیں۔اگر کافی ڈاکٹر ہوں تو ریٹائر ہونے کی عمر تک پہنچنے پر انہیں ریٹائر کیوں نہ کرے۔یورپ کے بعض ملکوں میں فی سو آدمی ایک معالج ہوتا ہے۔ہمارے ملک کی آبادی آٹھ کروڑ ہے۔اس لحاظ سے ہمارے پاس تو ایک لا کھ معالج ہونا چاہئے۔انگلستان میں سب سے کم معالج ہیں۔وہاں دو ہزار پر ایک معالج ہے۔پس انگلستان کے لحاظ سے بھی ہمارے پاس چالیس ہزار معالج ہونا چاہئے۔ہومیو پیتھک اور دیسی طب میں یہی فائدہ ہے کہ ایک تو علاج سستا ہو جاتا ہے دوسرے کثرت سے معالج مہیا ہو سکتے ہیں۔امریکہ میں ہومیو پیتھک معالج