انوارالعلوم (جلد 26) — Page 390
انوار العلوم جلد 26 390 فضل سے اس کی فصلوں میں برکت دے تا کہ ہمارے ملک کی مصیبت دور ہو اور اس کی وجہ سے ہی ہماری مصیبت بھی دور ہو۔میرا قرآن کریم میں زراعت کے متعلق ایک اصول بیان فرمایا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِ سُنبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ 2 اس آیت میں زراعت میں ترقی کے امکانات پر بحث کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ بعض حالات میں یہ ممکن ہے کہ ایک دانہ سات بالیں نکالے اور ہر بالی میں ایک سو دانہ ہو۔یعنی ایک دانہ 700 گنا ہو جائے۔پھر اس پر بس نہیں اللہ تعالیٰ چاہے تو اس سے بھی زیادہ بڑھا دے۔اس اصول کے مطابق دیکھا جائے تو چونکہ ہمارے ملک میں عام طور پر فی ایکڑ 30 سیر پیج ڈالا جاتا ہے اگر ایک دانہ سے 700 دانہ تک کی پیداوار ہو تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ ایک ایکڑ سے 30x700 یعنی 21000 سیرا ناج پیدا ہوگا اور یہ 525 من بنتے ہیں۔گویا قرآنی اصول کے مطابق 525 من فی ایکڑ پیداوار ہو سکتی ہے اور آیت ظاہر کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے اور بھی بڑھا سکتا ہے۔لیکن اگر یہی اوسط سارے پاکستان میں پیدا ہونے لگ جائے اور جو زیادتی کا وعدہ ہے وہ نہ بھی پورا ہو تب بھی پاکستان کی کاشت ہونے والی زمین کے لحاظ سے 24، 25 ارب من صرف گندم پیدا ہو سکتی ہے۔چاول وغیرہ اس کے علاوہ ہیں۔اگر اتنا ہی ان کو سمجھ لیا جائے تو پچاس ارب من غلہ سالانہ پیدا ہوسکتا ہے۔مشرقی اور مغربی پاکستان دونوں کو ملا کر ہمارے ملک کی کل آبادی آٹھ کروڑ ہے۔اور حساب کی رو سے صرف چھ من گندم سالانہ فی کس خرچ ہوتی ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ ہمیں سالانہ اڑتالیس کروڑ من غلہ کی ضرورت ہے۔لیکن ہمارے ملک میں 50 ارب من غلہ پیدا ہو سکتا ہے جو ضرورت سے سو گنے سے بھی زیادہ ہے اور 8 ارب آدمیوں کے لئے کافی ہو سکتا ہے۔گویا پاکستان جس کی آبادی گل آٹھ کروڑ ہے اس کو سارا سال خوراک دے کر اتنا غلہ اور چاول بیچ سکتا ہے کہ غیر ملکوں میں بھیج کر اس سے کروڑوں کروڑ پونڈ زر مبادلہ کمایا جائے۔مگر ضرورت یہ ہے کہ بچے طور پر محنت کی جائے