انوارالعلوم (جلد 26) — Page xliv
انوار العلوم جلد 26 33 تعارف کتب ہو۔پس اختلافات کو کبھی اپنے قریب بھی نہ آنے دو۔ہر شخص جو کسی جماعت میں تفرقہ کا بیج بوتا اور جماعتی اتحاد کو نقصان پہنچاتا ہے وہ احمدیت کا بدترین دشمن ہے۔اور تمہیں اُسی طرح تباہی کے گڑھے میں گرانا چاہتا ہے جس طرح گزشتہ دور میں مسلمان صدیوں تک تنزل کا شکار رہے۔تمہیں یا درکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اسی لئے مبعوث فرمایا ہے کہ دنیا ایک ہاتھ پر اکٹھی ہو۔پس ہر شخص جو اتحاد میں رخنہ اندازی کرتا ہے، ہر شخص جو اس سکیم کے راستہ میں روک بنتا ہے وہ خدائی ناراضگی کا نشانہ بنتا ہے" (22) جلسہ سالانہ 1962ء کے افتتاحی و اختتامی اجلاسات کے لئے پیغامات حضرت خلیفہ لمسیح الثانی نے جلسہ سالانہ 1962ء پر علالت طبع کے باعث بنفس نفیس شرکت نہ فرمائی تا ہم آپ نے تحریراً افتتاحی پیغام بھجوایا جو 26 دسمبر کو افتتاحی اجلاس میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے پڑھ کر سنایا: حضور نے پیغام کے آغاز میں جلسہ سالانہ میں شرکت کے فوائد بیان کرتے ہوئے تحریر فرمایا: " آپ لوگ یا درکھیں کہ ہمارا یہ جلسہ دنیوی میلوں کا رنگ نہیں رکھتا بلکہ خالص دینی مقاصد کو ترقی دینے اور باہمی اخوت اور محبت بڑھانے کے لئے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے اس لئے ان ایام کو ضائع نہ کریں بلکہ ان سے ایسے رنگ میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں کہ جب آپ واپس جائیں تو آپ اپنے دلوں میں محسوس کریں کہ آپ کے ایمان اور آ کے اخلاص اور آپ کے علم اور آپ کے عمل میں ایک نمایاں ترقی ہوئی ہے اور آپ کی روحانیت اور باطنی پاکیزگی میں اضافہ ہوا ہے۔اگر آپ اس جلسہ سے یہ فائدہ اٹھا لیں تو یقیناً آپ کامیاب ہو گئے۔اور اگر آپ لوگ اپنے اندر کوئی تغیر محسوس نہ کریں تو آپ کو اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا چاہئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ جس شخص کے دو دن بھی نیکی کے لحاظ سے برابر رہے وہ گھاٹے میں رہا۔اور آپ کے لئے