انوارالعلوم (جلد 26) — Page 386
انوار العلوم جلد 26 386 اس موقع پر مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا۔1953 ء میں جبکہ سارے پنجاب میں فساد تھا حکومت کے پاس رپورٹیں کی جاتی تھیں کہ احمد یوں نے اپنے بچاؤ کے لئے بڑا سامان رکھا ہوا ہے اس لئے گورنمنٹ کی طرف سے کبھی کبھی سی آئی ڈی کے افسر ربوہ آ جاتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ ایک سی آئی ڈی کا افسر آیا۔ایک پٹھان لڑکے کو اُس نے دیکھا کہ وہ بیوقوف سا ہے اور اس کی تعلیم اچھی نہیں ہے اس لئے اُس نے خیال کیا کہ اس نوجوان سے بات معلوم ہو جائے گی۔چنانچہ اُس نے اسے کہا کہ تم مجھے وہ جگہ دکھاؤ جہاں تم نے لڑائی کا سامان رکھا ہوا ہے۔اس لڑکے نے کہا تم میرے ساتھ آ جاؤ۔چنانچہ اس لڑکے نے اس سی آئی ڈی کے افسر کو ساتھ لیا اور ایک مسجد میں لے گیا۔وہاں قرآن کریم کا درس ہو رہا تھا۔اس لڑکے نے کہا یہ ہماری لڑائی کی تیاری ہے۔اس افسر نے کہا یہ کیا تیاری ہے میں نے تو پوچھا تھا کہ وہ جگہ دکھاؤ جہاں تمہارے ہتھیار پڑے ہوئے ہیں۔وہ لڑکا اُسے پھر ایک اور مسجد میں لے گیا وہاں بھی قرآن کریم کا درس ہو رہا تھا۔اس افسر نے کہا تم نے پھر غلطی کی ہے تم مجھے وہ جگہ بتاؤ جہاں تم نے مقابلہ کے لئے سامان جمع کیا ہوا ہے۔تم لوگ کمزور ہو اس لئے تم نے مقابلہ کے لئے ضروری تیاری کی ہوگی۔وہ لڑکا کہنے لگا اچھا آؤ میں تمہیں اور جگہ دکھاؤں جہاں ہمارا فوجی سامان پڑا ہے۔وہ افسر خوش ہو گیا اور اس کے ساتھ ہولیا۔چنانچہ وہ پھر اسے ایک اور مسجد میں لے گیا۔وہاں بھی قرآن کریم کا درس ہورہا تھا۔وہ افسر کہنے لگا تم مجھے پھر ایسی جگہ لے آئے ہو جہاں قرآن کریم کا درس ہو رہا ہے۔اس لڑکے نے کہا ہمیں تو یہی فوجی سامان دیا جاتا ہے اور یہ میں نے تمہیں دکھا دیا ہے باقی رہا ظاہری سامان سو ہمیں تو یہ سبق دیا جاتا ہے کہ سر جھکاؤ اور مارکھا ؤ۔یہ کہہ کر اس نے اپنے سر سے ٹوپی اُتاری اور اپنے سر پر چپت مار کر سر جھکا لیا اور کہا کہ ہمیں تو بس یہی سکھایا جاتا ہے کہ مخالف کے آگے اپنا سر جھکا دو۔وہ افسر کہنے لگا اس طرح تو لوگ تمہیں مار دیں گے وہ پٹھان لڑکا کہنے لگا پھر کیا ہو گا ہمیں شہادت ہی نصیب ہوگی اور کیا ہو گا۔اس پر وہ افسر مایوس ہو کر چلا گیا۔وہ افسر سمجھتا ہو گا کہ شاید یہ لڑکا بہت بیوقوف ہے لیکن تھا وہ بڑا عقلمند۔دین کے لئے