انوارالعلوم (جلد 26) — Page 368
انوار العلوم جلد 26 368 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1958ء بڑی عمر کے آدمی کو کوئی بات صفائی سے کہہ دی۔اس پر اُس بڑی عمر کے آدمی نے اُسے گالی دے دی۔وہ کہنے لگا یہ عمر کا تقاضا ہے جب اس نے کہا کہ عمر کا تقاضا ہے تو اُس نے اور گالی دی۔وہ کہنے لگا یہ بھی عمر کا تقاضا ہے۔اِس پر اُس نے اور گالی دے دی۔وہ کہنے لگا یہ بھی عمر کا تقاضا ہے۔جب اُس نے تین دفعہ یہی کہا تو وہ ہنس پڑا اور کہنے لگا تم باز نہیں آتے۔تو انسانی عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ کمزوری بھی بڑھتی چلی جاتی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا ہی فضل ہوتا ہے کہ اس کمزوری کے باوجود انسان تھوڑا بہت کام کر سکتا ہے۔اب یہ حالت ہے کہ کھڑا ہونا بھی میرے لئے مشکل ہوتا ہے۔بیٹھنا بھی مشکل ہوتا ہے اور رات کو لیٹنا بھی میرے لئے مشکل ہوتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ احسان رہا ہے کہ با وجود بیماری کے حملہ کے اور اس پر ایک لمبی مدت گزر جانے کے مجھے قرآن کریم نہیں بھولا۔میں جب بھی قرآن کریم کی کوئی آیت پڑھتا ہوں اس کے نئے نئے معارف میرے دل میں آتے جاتے ہیں۔اور پھر اس سال تو قرآن کریم کے کثرت سے پڑھنے کی اتنی توفیق ملی ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں ملی۔یعنی با وجود بیماری کی تکلیف کے اس سال جون سے لے کر اس وقت تک 24 ، 25 دفعہ میں قرآن کریم ختم کر چکا ہوں۔اس وقت میں جلسہ کے افتتاح کے لئے آیا ہوں۔تقریریں بعد میں ہوں گی۔ہمارے خاندان کے بعض نکاح ہیں وہ بھی بعد میں ہوں گے۔اس وقت تو میں خدا تعالیٰ کا شکر یہ ادا کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ احسان کیا ہے کہ اس نے ہمیں اسلام کی خدمت کے لئے اور اپنی باتیں سننے کے لئے جمع کر دیا ہے وہ ہماری اس خدمت کو قبول فرمائے اور اپنے فرشتوں کو اُتارے کہ وہ ہماری مدد کریں اور اسلام کی اشاعت دنیا میں کریں۔ہم کمزور ہیں اور ہمارے کندھوں پر وہ کام لا دا گیا ہے جس کو سر انجام دینے کی ہم میں طاقت نہیں۔وہ محض خدا اور اس کے فرشتے ہی کر سکتے ہیں۔مغربیت دنیا میں ایسی غالب آچکی ہے کہ خود ہمارے بعض احمدی نوجوان بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔خصوصاً سرکاری عہدوں پر جو لوگ ہیں ان پر بہت زیادہ اثر ہو رہا ہے اور ان میں سے بعض لوگوں کے اہل خانہ پردہ چھوڑ رہے ہیں۔میں نے پچھلے دنوں