انوارالعلوم (جلد 26) — Page 367
انوار العلوم جلد 26 بِسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ 367 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1958ء نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ تشهد افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1958ء فرموده 26 دسمبر 1958ء بمقام ربوہ ) د تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا تو انسان کے لئے ہمیشہ ہی ضروری ہے مگر اس زمانہ میں اس کے فضلوں اور احسانات کو دیکھتے ہوئے اس کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے اُتنا ہی کم ہے۔میں اب ضعیف اور بوڑھا ہو چکا ہوں۔جوانی کی عمر میں جب میں صرف 26 سال کا تھا مجھے خلیفہ منتخب کیا گیا تھا اور اگر میں زندہ رہا تو جنوری میں میں 69 سال کا ہو جاؤں گا۔گویا میری خلافت پر 45 سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور اتنے لمبے عرصہ تک کام کرنے کی توفیق مجھے خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی ملی ہے۔لیکن پھر بھی ایک وہ زمانہ تھا جب میں بغیر سوچے سمجھے تقریر کے لئے کھڑا ہو جاتا تھا اور گھنٹوں تقریر کرتا چلا جاتا تھا اور اب میرا خطبہ بعض دفعہ پانچ سات منٹ کا ہوتا ہے۔بعض دفعہ 20 منٹ کا ہوتا ہے۔بعض دفعہ 25 منٹ کا ہوتا ہے اور بعض دفعہ آدھ گھنٹے کا ہوتا ہے۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ورنہ اس عمر میں جو مجھے بیماری کا حملہ ہوا ہے یہ بڑا تکلیف دہ ہے۔اس کے اثرات کی وجہ سے پہلے مجھے یہ و ہم ہو گیا تھا کہ بیماری بڑھ رہی ہے مگر جب میں نے یورپ کے اُس ڈاکٹر کو لکھا جس نے میرا علاج کیا تھا تو اس نے لکھا کہ بیماری بڑھ نہیں رہی بلکہ یہ ایک اتفاقی امر ہے اور روماٹزم 1 (RHEUMATISM) یعنی وجع المفاصل کی تکلیف ہے ورنہ یہ درست نہیں کہ آپ کا مرض بڑھ رہا ہے۔مرض جو ہونا تھا وہ ہو چکا ہے مگر اس کے علاوہ عمر کا تقاضا بھی ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ کسی شخص نے ایک