انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 355

انوار العلوم جلد 26 بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ 355 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع سے خطاب نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع سے خطاب (فرموده یکم نومبر 1958ء بمقام ربوہ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج انصار اللہ کے سالانہ اجتماع کی تقریب ہے۔میں اس موقع پر آپ سے دو باتیں کہنی چاہتا ہوں۔ایک تو میں اس بارہ میں آپ سے خطاب کرنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنے فرائض کی طرف توجہ کریں۔آپ کا نام انصار اللہ سوچ سمجھ کر رکھا گیا ہے۔پندرہ سے چالیس سال تک کی عمر کا زمانہ جوانی اور اُمنگ کا زمانہ ہوتا ہے اس لئے اس عمر کے افراد کا نام خدام الاحمدیہ رکھا گیا ہے تا کہ وہ خدمت خلق کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ وقت صرف کریں۔اور چالیس سال سے اوپر عمر والوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا ہے۔اس عمر میں انسان اپنے کاموں میں استحکام پیدا کر لیتا ہے۔اور اگر وہ کہیں ملازم ہو تو اپنی ملازمت میں ترقی حاصل کر لیتا ہے اور وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے سرمایہ سے دین کی زیادہ سے زیادہ خدمت کر سکے۔پس آپ کا نام انصار اللہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ جہاں تک ہو سکے آپ دین کی خدمت کی طرف توجہ کریں۔اور یہ توجہ مالی لحاظ سے بھی ہوتی ہے اور دینی لحاظ سے بھی ہوتی ہے۔دینی لحاظ سے بھی آپ لوگوں کا فرض ہے کہ عبادت میں زیادہ سے زیادہ وقت صرف کریں اور دین کا چرچا زیادہ سے زیادہ کریں تا آپ کو دیکھ کر آپ کی اولادوں میں