انوارالعلوم (جلد 26) — Page 333
انوار العلوم جلد 26 333 سیر روحانی (11) کے زمانہ میں ایک شخص باہر سے آیا اور کہنے لگا ابو جہل نے مجھ سے مدت ہوئی قرض لیا تھا مگر اب وہ دیتا نہیں۔آپ حلف الفضول میں شامل رہ چکے ہیں آپ مجھ کو میرا قرض دلائیں۔آپ نے فرمایا اچھا میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔چنانچہ آپ گئے ، ابو جہل کا دروازہ بند تھا، آپ نے دستک دی۔ابو جہل آیا اور اُس نے دروازہ کھولا اور آپ کو دیکھ کر ذرا پیچھے ہٹ گیا اس خیال سے کہ میں اس کا اتنا بڑا دشمن ہوں اس کو میرے دروازہ پر آنے کی جرات کس طرح ہوئی ؟ آپ نے فرمایا تم نے اس کا کچھ قرض دینا ہے؟ وہ انکار نہ کر سکا اور کہنے لگا ہاں میں نے اس سے قرض لیا ہوا ہے مگر اب تک مجھے اُس کے ادا کرنے کا موقع نہیں ملا۔آپ نے فرمایا کہ موقع کا سوال نہیں تم مالدار آدمی ہو فوراً اس کا قرض ادا کر دو۔وہ اندر گیا اور جتنا روپیہ قرضہ تھا اُتنا ہی روپیہ اُسے لا کر دے دیا۔27 ابوجہل کیلئے ایک خدائی نشان جب وہ اپنے معمول کے مطابق کعبہ میں آیا تو سب مکہ کے لوگوں نے اُسے کہا کہ تم بڑے ذلیل آدمی ہو۔ہمیں تو یہ کہا کرتے تھے کہ اس کی بات نہ مانو اور آج کسی غیر جگہ نہیں بلکہ اپنے گھر پر جب اُس نے تم کو کہا کہ اس کا قرض ادا کر دو تو تم نے فوراً اس کا قرض ادا کر دیا۔اور ڈر گئے۔اس سے پتا لگتا ہے کہ تم ہم کو غلط راستہ پر چلاتے ہو ورنہ خود تم میں کوئی ہمت نہیں۔اُس نے کہا۔خدا کی قسم ! اگر تم میری جگہ ہوتے تو تم بھی اُسی طرح قرضہ ادا کر دیتے۔انہوں نے پوچھا کیا ہو اتھا ؟ وہ کہنے لگا جب میں نے دروازہ کھولا اور مجھے پتا لگا کہ محمد ( رسول اللہ ) ہیں تو میں نے دیکھا کہ ایک وحشی اونٹ آپ کے دائیں بازو پر کھڑا ہے اور ایک وحشی اونٹ آپ کے بائیں بازو پر کھڑا ہے اور دونوں نے اپنے سر آگے کئے ہوئے ہیں اور وہ مجھے کاٹنا چاہتے ہیں۔میں اُن وحشی اونٹوں کو دیکھ کر اتنا ڈرا کہ اُسی وقت روپیہ لا کر اُس کے حوالے کر دیا۔28 اب یہ ایک خدائی معجزہ تھا مگر اس سے پتا لگ سکتا ہے کہ ابو جہل کتنا خبیث دشمن تھا۔ایسے دشمن کے گھر میں عکرمہ پیدا ہو اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں باوجود یہ کہنے کے کہ تو ابتر نہیں تیرا دشمن ابتر ہے اُس زمانہ