انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 298

انوار العلوم جلد 26 298 اس کے لیکچر کروائے۔اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں بھی لکھا کہ میں اسلام کی تبلیغ کرنا چاہتا ہوں آپ میری مدد کریں۔آپ نے اسے لکھا کہ ہم سے جو مدد ہوسکی ہم کریں گے۔لیکن جب وہ ہندوستان پہنچا اور اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملنے کی خواہش کی تو دوسرے مسلمانوں نے اسے روکا اور کہا کہ اگر تم قادیان گئے تو لوگ تمہیں چندہ نہیں دیں گے۔چنانچہ وہ قادیان نہ آیا اور واپس چلا گیا۔مگر وہ آخر وقت تک اسلام پر بڑی مضبوطی سے قائم رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے قریب اُس نے مفتی محمد صادق صاحب کو لکھا کہ اب میں پچھتاتا ہوں کہ میں اُس وقت قادیان کیوں نہ چلا گیا۔اسی طرح ایک اور شخص پر وفیسر ریگ تھا وہ بھی اسلام لے آیا۔اس کا اصلی وطن تو انگلستان تھا مگر وہ بہت دیر تک آسٹریلیا میں ملازم رہا۔بعد میں وہ ہندوستان میں آیا اور یہاں علم نجوم کے متعلق لیکچر بھی دیتا رہا۔اس کو بھی مفتی محمد صادق صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں لائے تھے۔اُس نے کہا مجھے یہ معلوم کر کے بڑی خوشی ہوئی کہ آپ کا مذہب سائنس کے مطابق ہے۔میں آپ کی بیان کردہ باتوں کو تسلیم کرتا ہوں اور اپنے ملک میں واپس جا کر بھی اسلام کی تبلیغ کروں گا۔یہ سب کچھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہشات کا ظہور تھا۔آپ نے فرمایا تھا آ رہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج نبض پھر چلنے لگی مُردوں کی ناگہ زندہ وار اور خدا تعالیٰ نے ان الفاظ کو اسی رنگ میں پورا کر دیا۔یہ ایک نشان ہے جو ہمارے لئے ازدیاد ایمان کا موجب ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت اتنا ہو گیا ہے کہ مجھے اپنی تقریر ختم کرنی چاہئے کیونکہ کمزوری کی وجہ سے ابھی لمبی تقریر کرنا میرے لئے مشکل ہے اور پھر کل بھی میں نے تقریر کرنی ہے اور اس میں حسب سابق ایک علمی مضمون بیان کرنا ہے۔اس لئے مجھے اپنے جسم میں کچھ طاقت باقی رکھنی چاہیے تا کہ میں وہ تقریر کر سکوں۔“ (الفضل 23،19،16،14 فروری1958ء) صلى الله 66 1: بخاری کتاب فضائل أَصْحَاب النَّبِي ع باب مناقب خالد بن الوليد حدیث نمبر 3757 صفحه 632 الطبعة الثانية مطبوعه رياض 1999ء