انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 290

انوار العلوم جلد 26 290 اڑا دیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں عورتوں کو تکلیف ہوئی ہے۔میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے دلوں میں پختہ عزم کر لو کہ تم نے احمدیت کو مضبوط کرنا ہے اور قربانی کے لئے تیار رہنا ہے۔دیکھو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کس قدر قربانی کیا کرتے تھے۔چند صحابہ دشمن کے مقابلہ میں چلے جاتے تھے اور ان کے پڑے کے پڑے اُڑا دیتے تھے۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں قیصر کو بار بار شکست ہوئی تو اُس نے ایک دربار منعقد کیا اور اس میں اپنے ساتھیوں کو اُبھارا کہ تم پوری ہمت اور جوش سے مسلمانوں کا مقابلہ کرو۔اُس زمانہ میں قیصر کی حکومت ویسی ہی تھی جیسے آج کل امریکہ اور روس کی حکومتیں ہیں۔چنانچہ قیصر کی طرف سے اس کا ایک جرنیل ایک بڑا بھاری لشکر لے کر مسلمانوں کے مقابلہ پر آیا۔اسلامی سپہ سالار حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے صحابہ کو مشورہ کے لئے جمع کیا اور کہا آپ لوگ بتائیں قیصر روما کے لشکر کا کیسے مقابلہ کیا جائے؟ اُس وقت حضرت خالد نے کہا میرا مشورہ تو یہ ہے کہ ساٹھ ہزار کے لشکر کے مقابلہ میں ہماری طرف سے صرف 60 آدمی جائیں تا کہ اگر ہمیں فتح حاصل ہو تو دشمن پر ہمارا رعب بیٹھ جائے۔پھر انہوں نے کہا آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اپنی مرضی کے ساٹھ آدمی چن لوں۔میں ان سپاہیوں کے ساتھ قلب لشکر پر حملہ کر دوں گا اور ہمارے مد نظر صرف یہ بات ہوگی کہ ہم دشمن کے سپہ سالار کو قتل کر دیں۔چنانچہ حضرت ابو عبیدہ کی رضا مندی سے حضرت خالد نے 60 آدمی چن لئے اور انہیں کہہ دیا کہ اسلامی لشکر اس وقت خطرہ میں ہے تمہارا فرض ہے کہ تم دشمن کے اندر نیزہ کی طرح گھستے جاؤ اور سپہ سالار پر حملہ کر دو۔اگر تم اس حملہ میں کامیاب ہو گئے اور تم نے سپہ سالار کو مار دیا تو اسلام کی فتح یقینی ہے۔چنانچہ ان 60 سپاہیوں نے اتنی تیزی اور شدت سے دشمن کے قلب پر حملہ کیا کہ سارا لشکر بھاگ گیا۔اس حملہ میں کچھ صحابہ زخمی ہو کر گر گئے۔ان میں حضرت عکرمہ ، حضرت فضل بن عباس اور بعض دوسرے صحابہ بھی شامل تھے۔تاریخ میں آتا ہے کہ حضرت عکرمہ سخت زخمی پڑے تھے کہ ایک صحابی نے دیکھا کہ وہ شدت پیاس کی وجہ سے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر رہے ہیں۔وہ جلدی سے ان کے پاس