انوارالعلوم (جلد 26) — Page 286
انوار العلوم جلد 26 286 نے خرچ کو مد نظر رکھتے ہوئے شروع میں صرف دس واقفین لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ممکن ہے بعض واقفین افریقہ سے لئے جائیں یا اور غیر ملکوں سے بھی لئے جائیں مگر بہر حال ابتدا دس واقفین سے کی جائے گی اور پھر بڑھاتے بڑھاتے ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔اس سکیم کی تفصیل یہ ہے کہ ہم اس سکیم کے واقف زندگی کو چالیس سے ساٹھ روپیہ تک ماہوار الاؤنس دیں گے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ انتہائی الاؤنس کو مد نظر رکھتے ہوئے بھی اس سکیم کا خرج دس معلمین پر صرف 7200 روپے سالا نہ ہوا کرے گا۔مگر کچھ امداد ہم زمینداروں سے بھی لیں گے۔اور وہ اس طرح کہ جہاں جماعتیں زیادہ ہوں گی وہاں ہم کوشش کریں گے کہ وہ آٹھ ، دس ایکڑ زمین اس سکیم کے لئے وقف کر دیں۔اُس مقام پر ہم اپنے نئے واقف زندگی کو ٹھہرائیں گے جو اُس زمین میں باغ لگائے گا اور اُس باغ میں اپنا مکان بنائے گا۔اس مکان کے بنانے میں وہ اس علاقہ کے احمدیوں سے کوئی مدد نہیں لے گا ہاں مزدوری وغیرہ کی مدد لے گا یا پرانے درخت تحفہ کے طور پر قبول کرے گا جن سے چھتیں اور دروازے بن سکیں۔پھر بعض واقفین کو اگر ممکن ہو سکا تو ہم کمپونڈری بھی سکھا دیں گے اور کچھ رقم دواؤں کیلئے بھی دیدیں گے اور ان سے جو آمد ہو گی وہ ہم انہی پر خرچ کریں گے۔ان سے خود کچھ نہیں لیں گے۔اسی طرح ہم بعض واقفین زندگی کو کہیں گے کہ وہاں سکول کھول دیں جو ابتدا میں چاہے پرائمری تک ہی ہوں اور اُن میں مدرسہ احمدیہ کا نصاب جو اُردو میں ہوگا پڑھانا شروع کر دیں تا کہ اُس علاقہ میں دو تین سال کے اندر اندر مزید معلمین پیدا ہو جائیں۔اگر ان سکولوں میں علاقہ کے مناسب حال ید کوئی فیس بھی لگا دی جائے تو وہ ہم نہیں لیں گے بلکہ وہ فیس بڑے اور چھوٹے استادوں میں تقسیم کر دی جائے گی۔ہاں ہمارا دیا ہوا عطیہ اُس میں ملا لیا جائے گا تا کہ تمام استادوں کو معقول رقم مل جائے۔ہمارا یہ بھی ارادہ ہے کہ بعض واقفین کو اُس علاقہ میں جن میں ان کا تقرر کیا جائے۔روزمرہ کی ضرورت کی چیزوں کی دُکانیں کھلوا د میں اور جہاں دس دس میل تک کوئی حکیم اور طبیب نہ ہو وہاں عطاری کی دُکان کھلوا دیں۔جس میں عرق بادیان،