انوارالعلوم (جلد 26) — Page 272
انوار العلوم جلد 26 272 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1957 ء ہر شخص جو کوئی کتاب اپنے ساتھ لے جائے وہ کسی کو پڑھنے کے لئے دے دے۔وہ پڑھ لے تو اس سے واپس لے کر کسی دوسرے کو دے دے۔پھر اس سے واپس لے کر کسی تیسرے شخص کو دے دے۔سال میں 360 دن ہوتے ہیں۔اگر تیسرے دن بھی کسی سے کتاب واپس لی جائے تو 360 دن میں ایک سو افراد کو سلسلہ کا لٹریچر پڑھایا جا سکتا ہے۔بلکہ اگر کوئی چار دن کے بعد بھی کتاب واپس دے تب بھی سو سے زیادہ لوگوں کو سلسلہ کا لٹریچر پڑھایا جا سکتا ہے کیونکہ کتاب پڑھنے میں کسی کو تین دن لگیں گے ، کسی کو چار دن لگیں گے اور کوئی شخص دو دن میں ہی کتاب ختم کر لے گا۔اگر ایسا کیا جائے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے اس وقت جو جماعت دس لاکھ کے قریب ہے وہ دس کروڑ بن جائے گی۔قادیان والوں کو بھی میں نصیحت کرتا ہوں کہ ہمارے ادھر آ جانے کی وجہ سے وہاں کی جماعت کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے گو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت کی تعداد وہاں اب بڑھ رہی ہے۔لیکن اگر وہ کوشش کریں تو تھوڑے عرصہ میں ہی قادیان کا جلسہ سالانہ اِس جلسہ سے بھی زیادہ شان سے ہوسکتا ہے۔اگر ان کی کوشش سے ہندوستان میں لاکھ ڈیڑھ لاکھ احمدی ہو جائے جس میں سے ساٹھ ستر ہزار آدمی وہاں جلسہ سالانہ پر آجائیں تو وہاں بھی اسی شان سے جلسہ کیا جا سکتا ہے۔یہاں پچھلے سال جلسہ سالانہ پر آنے والوں کی تعداد ساٹھ ہزار سے زیادہ تھی اس سال امید ہے کہ میری کل کی تقریر میں آنے والوں کی تعداد ستر ہزار تک پہنچ جائے گی۔قادیان میں سب سے زیادہ تعداد خلافت جو بلی کے موقع پر آئی تھی جو چالیس ہزار تھی مگر دوسرے سالوں میں بھی بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوتے رہے۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب جو اُن دنوں افسر جلسہ سالا نہ تھے بڑے خوش خوش میرے پاس آئے اور کہنے لگے دیکھئے اللہ تعالیٰ نے کیسا فضل کیا ہے۔میں نے خوراک کی پرچیاں اور ریلوے کے ٹکٹ خوب گنوائے ہیں اور اُن سے معلوم ہوا ہے کہ جلسہ سالانہ پر آنے والوں کی تعدا داکتیس ہزار کے قریب ہے اور یہاں رات کو پہلے دن کی کارروائی میں شامل ہونے کے لئے جو صرف دعائیہ ہے تینتیس ہزار افراد آ گئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آخری جلسہ پر سات سو احمدی