انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 271

انوار العلوم جلد 26 271 افتتاحی تقریر جلسه سالانه 1957ء و بی بی ! تو نہ بول۔بعد میں پولیس نے اس عورت کو دھکے دے کر باہر نکال دیا۔مجھے پتالگا تو میں نے جماعت پر بڑی خفگی کا اظہار کیا اور میں نے کہا تم نے بڑی کمینگی کی کہ تم مرد ہو کر چپ ہو گئے تمہیں تو اس موقع پر اپنی غیرت کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا اور اُس عورت پر کسی شخص کو ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے تھی۔تو خدا تعالیٰ کے فضل سے پرانے زمانہ سے ہی جماعت میں ایسی دلیر اور مخلص عورتیں موجود رہی ہیں۔کسی زمانہ میں یہ نمونہ ابتدائی مسلمانوں میں پایا جا تا تھا لیکن اب اس کا نمونہ احمدیت جو حقیقی اسلام ہے پیش کر رہی ہے۔اس نمونہ کو یاد رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ ہمارے اندر ایسے لاکھوں نمونے پیدا کرے۔اور اب اگر جماعت لاکھوں کی ہے تو جلد ہی کروڑوں کی ہو جائے۔اور پھر اللہ تعالیٰ اسے کروڑوں سے اربوں تک پہنچا دے۔اور خدا کرے کہ ہمارے رُشد و اصلاح کے نتیجہ میں سارا پاکستان احمدیت کی تعلیم کو قبول کرلے۔اور پھر خدا کرے کہ ہندوستان ہمارے رُشد و اصلاح کا اثر قبول کر لے۔پھر انڈو نیشیا اور ملا یا قبول کر لیں۔پھر تمام مصر، ایران ، عراق ، ترکی ، جرمنی اور امریکہ قبول کر لیں۔اور ان سب کی آبادی اگر ملائی جائے تو وہ ایک ارب سے زیادہ ہو جاتی ہے۔پھر روس کو خدا تعالیٰ اسلام کے قبول کرنے کی توفیق دے دے تو جماعت اربوں تک پہنچ جائے گی۔صرف دوستوں کو اس طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔مگر افسوس ہے کہ جماعت اس طرف پوری توجہ نہیں کرتی۔ورنہ اگر سچائی پیش کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ لوگ اس کی طرف توجہ نہ کریں۔۔کل ہی ایک غیر احمدی کے تاثرات الفضل میں شائع ہوئے ہیں 2 جو اُس نے میری کتاب ” دعوۃ الامیر کے متعلق شمس صاحب کو لکھے ہیں۔اس میں وہ غیر احمدی دوست لکھتے ہیں کہ اس کتاب کے پڑھنے سے میری آنکھیں کھل گئیں اور میں سمجھتا ہوں کہ واقعی یہ ایک راہ دکھانے والی کتاب ہے۔پس کوئی وجہ نہیں کہ یہ چیز میں لوگوں تک پہنچائی جائیں تو وہ متاثر نہ ہوں۔صرف جماعت سستی کر رہی ہے۔اگر آپ لوگوں میں سے ہر شخص یہ اقرار کرے کہ وہ اگلے سال کے ختم ہونے سے پہلے کم سے کم ایک سو آدمیوں کو سلسلہ کا لٹریچر پڑھا دے گا تو یہ کوئی مشکل امر نہیں اور نہ ہی اس پر کوئی خرچ ہوتا ہے۔تم میں سے