انوارالعلوم (جلد 26) — Page 270
انوار العلوم جلد 26 270 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1957ء اس سال وہ چند ماہ قبل ربوہ میں آئی تو کالج چلی گئی۔وہاں کوئی جلسہ ہورہا تھا اور ایک بی اے کی سٹوڈنٹ لڑکی تقریر کر رہی تھی۔وہ لڑ کی کچھ ہچکچا رہی تھی۔یہ عورت اُسے کہنے لگی بیٹی ! تو ڈرتی کیوں ہے؟ دلیری سے تقریر کر۔تو جس قوم کو خدا تعالیٰ نے ایسی بہادر عورتیں دی ہوئی ہوں اس کے مردوں کا مقابلہ کیسے کیا جاسکتا ہے۔مجھے یاد ہے 1953ء کے فسادات کے دوران میں ضلع سیالکوٹ کی ایک عورت پیدل ربوہ پہنچی اور اس نے ہمیں بتایا کہ ہمارا گاؤں دوسرے علاقہ سے کٹ چکا ہے اور مخالفوں نے ہمارا پانی بند کر دیا ہے۔اگر ہم پانی لینے جاتے ہیں تو وہ ہمیں مارتے ہیں۔اُس وقت ایک فوجی افسر یہاں رخصت پر آیا ہوا تھا اُس کو میں نے ایک مقامی دوست کے ساتھ وہاں بھیجا تا کہ وہ وہاں جا کر احمدیوں کی امداد کرے۔اب دیکھ لو کتنی بڑی ہمت کی بات ہے کہ جہاں مرد قدم نہ رکھ سکے وہاں ایک عورت نے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔اُس وقت مرد اپنے گھروں سے باہر نکلنے سے ڈرتے تھے مگر وہ عورت سیالکوٹ سے پیدل سمبڑیال کی طرف گئی۔وہاں سے گوجرانوالہ کی طرف آئی اور پھر گوجرانوالہ سے کسی نہ کسی طرح یہاں پہنچی اور ہمیں جماعت کے حالات سے آگاہ کیا۔اور ہم نے یہاں سے ان کو امداد کے لئے آدمی بھیجوائے۔تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری عورتیں مردوں سے زیادہ دلیر ہیں۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ قادیان میں غیر احمدی علماء نے جلسہ کیا۔پولیس اور گورنمنٹ ان کی تائید میں تھی۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اور احمدیوں کو بُرا بھلا کہا اور پولیس نے بھی عوام کے ساتھ مل کر جماعت کے خلاف نعرے لگائے جس کی وجہ سے مولوی ثناء اللہ صاحب اور بھی دلیر ہو گئے۔قادیان کے قریب ہی ایک گاؤں بھینی بانگر ہے۔اُس جگہ کی ایک عورت وہاں سے گزری۔اُس نے گالیاں سنیں تو کھڑی ہوگئی اور پنجابی میں بلند آواز سے کہنے لگی تیرے دادے داڑھی بگیا تو مرزا صاحب نوں گالیاں کیوں دینا ایں کیونکہ اُس وقت جماعت کو صبر و تحمل کی بار بار تلقین کی گئی تھی اس لئے جماعت کے جو دوست وہاں کھڑے تھے وہ اس عورت کے پیچھے پڑگئے اور اسے کہنے لگے