انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 269

انوار العلوم جلد 26 269 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1957ء نیچے بار یک قلم سے لکھ دیتے کہ پاکستان میں آکر یہ گیارہواں جلسہ سالانہ ہے۔اس طرح دو تاریخیں بن جاتیں اور لوگوں کے ذہنوں میں قائم رہتیں۔لیکن ستاسٹھویں کو چیکے سے اُڑا دینا کسی عقل کے ماتحت نہیں۔بہر حال یہ جلسہ ستاسٹھواں جلسہ ہے۔اور اگر بیعت کے اعلان کو لیا جائے جو دسمبر 1888ء میں ہوا تھا اور جس پر مارچ 1889ء میں پہلی بیعت ہوئی تو ہماری جماعت کے قیام پر 69 سال گزر چکے ہیں۔اس عرصہ میں ہم اتنی دشمنیوں سے گزرے ہیں کہ گویا ہم نے تلواروں کے نیچے اپنا سر رکھا اور اس طرح 69 سال گزار دیئے۔اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے ایمانوں میں روز افزوں زیادتی ہوئی اور ہوتی چلی جارہی ہے۔چنانچہ آج سے ایک سال قبل ایک احمدی میں جتنی طاقت تھی آج اُس سے دس گنا زیادہ طاقت اُس میں موجود ہے۔اگر ایک سال پہلے ایک احمدی دو مخالفوں کا مقابلہ کر سکتا تھا تو آج ایک احمدی ہیں مخالفوں کا مقابلہ کر سکتا ہے بلکہ اب تو ہماری عورتیں بھی ایسی ہیں جو مردوں سے زیادہ دلیر ہیں۔ضلع جھنگ میں چنڈ بھروانہ اور منگلا کے لوگ نئے احمدی ہوئے ہیں۔وہاں کی ایک عورت یہاں آیا کرتی ہے۔وہ جب بیعت کرنے کے لئے ربوہ آئی تو مہمان خانہ میں ٹھہری۔رات کو اُس کی بیٹی بھی آگئی۔اُس نے کہا اماں ! تو نے مجھے کس قبیلہ میں بیاہ دیا ہے وہ تو احمدیت کی بڑی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔میں بہتیری تبلیغ کرتی ہوں مگر وہ سنتے ہی نہیں۔اُس کی ماں کہنے لگی بیٹی ! تو میری جگہ آجا اور اپنے باپ اور بھائیوں کا کھانا پکا میں تیرے سسرال جاتی ہوں اور میں دیکھتی ہوں کہ وہ کس طرح مخالفت کرتے ہیں اور احمدیت کی تبلیغ نہیں سنتے۔تو اب ہماری عورتیں بھی ایسی ہیں جو کہتی ہیں کہ ہم دیکھیں گے کہ لوگ ہماری تبلیغ کیسے نہیں سنتے۔اس عورت کو پچھلے سال لجنہ اماء اللہ نے تقریر کرنے کے لئے کھڑا کر دیا۔نئی احمدی ہے اور جوش زیادہ ہے۔جوش میں آکر اس نے اردو میں تقریر شروع کر دی۔تقریر اپنے لحاظ سے تو بہت عمدہ تھی لیکن چونکہ وہ اردو نہیں جانتی تھی اس لئے لجنہ اماءاللہ کو اس سے التجا کرنی پڑی کہ بی بی ! تو پنجابی میں ہی تقریر کر ہم پنجابی سمجھ لیں گے۔