انوارالعلوم (جلد 26) — Page 267
انوار العلوم جلد 26 267 افتتاحی تقریر جلسه سالانه 1957ء " بہر حال ملک فضل حسین صاحب نے باوجود بیماری کے جس قدر حصہ تیار کیا تھا وہ چھپ کر آ گیا ہے لیکن جو اعلان میں نے کیا تھا وہ تاریخ احمدیت کے متعلق تھا۔تاریخ احرار کے متعلق نہیں تھا۔اور جو حصہ آب چھپا ہے یہ صرف تاریخ احرار پر مشتمل ہے۔پس تاریخ احمدیت ا سکے علاوہ ہے اور اس کا پہلا دور 1880 ء سے شروع ہوتا ہے جب براہین احمدیہ شائع ہوئی۔پھر 1891ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مسیحیت کا دعویٰ کیا ہے تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے کفر کا فتویٰ لگایا۔وہ سارے ہندوستان میں پھرے اور انہوں نے علماء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف اکسایا۔یہ سارے تاریخ احمدیت کے ہی حصے ہیں ان کو چھوڑ کر صرف فسادات 1953 ء کا پس منظر لے لینا میرے نزدیک اس مقصد کو ہرگز پورا نہیں کرتا جس کے لئے میں نے اس کتاب کا اعلان کیا تھا۔اب یہ تاریخ بعد میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے شائع کی جائے گی۔ایک حصہ 1908ء سے 1914 ء تک ہوگا کیونکہ اس عرصہ میں سلسلہ کے اندر رخنہ اندازیاں شروع ہوئیں اور پیغامیت کی بنیاد پڑنی شروع ہوئی۔جس کا اظہار 1914 ء میں جا کر ہوا۔دوسرا حصہ 1914ء سے 1934 ء تک کے حالات پر مشتمل ہوگا جس میں پیغامیت کو شکست ہوئی۔احمدیت مضبوطی سے قائم ہوئی اور احرار نے بھی سر نکالنا شروع کیا۔پھر 1934 ء سے 1953 ء آئے گا یا صرف پارٹیشن تک اس جلد کو رکھا جائے گا کیونکہ پارٹیشن میں بھی ہماری جماعت نے بہت کچھ خدمات ادا کی ہیں۔جن کا کافی ذخیرہ ہمارے پاس موجود ہے۔پھر پارٹیشن سے لے کر اب تک جو خدمات سلسلہ نے کی ہیں اور اُسے جو ترقیات حاصل ہوئی ہیں انہیں لیا جائے گا تب کہیں تاریخ احمدیت مکمل ہو گی۔اور چونکہ یہ لمبا کام ہے اس لئے غالباً 1960 ء تک مکمل ہو سکے گا۔پہلا جلسہ سالانہ 1891ء میں ہوا تھا اور براہین احمدیہ 1880ء میں شائع ہونا شروع ہوئی تھی۔پس 1880 ء سے لے کر 1960 ء تک کے عرصہ کو مدنظر رکھتے ہوئے تاریخ احمدیت 80 سال پر مشتمل ہے مگر اسے محض 1953 ء میں مقید کر دیا گیا ہے۔بہر حال مجھے بتایا گیا ہے کہ پہلا حصہ مولوی دوست محمد صاحب مکمل کر چکے ہیں اور بعد کا جو حصہ ہے اسے بھی جلد مکمل کر لیا جائے گا۔