انوارالعلوم (جلد 26) — Page 266
انوار العلوم جلد 26 266 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1957ء ہے۔بعد میں اگر کوئی زیادتی اغلاط نامہ میں ہوئی تو اس کا بھی اعلان کر دیا جائے گا۔وہ بھی دوست اس کے ساتھ لگا لیں۔اس طرح دو تین ماہ میں کتاب مکمل ہو کر سب دوستوں تک پہنچ جائے گی۔اور اُسی تعداد میں پہنچ جائے گی جس تعداد میں دوستوں نے خواہش کی ہے۔اس کے علاوہ ایک اور کتاب بھی تیار ہے۔میں نے پچھلے سال جلسہ سالانہ پر تبویب مسند احمد بن جنبل کا اعلان کیا تھا۔اس کی ایک جلد چھپ کر آ گئی ہے جس کی قیمت چھ روپیہ فی نسخہ ہے۔وہ کتاب بھی دوستوں کو مولوی نور الحق صاحب سے مل سکتی ہے۔پھر ایک کتاب تاریخ احمدیت کی بھی چھپ چکی ہے۔اس کے متعلق مفصل طور پر تو میں کل بیان کروں گا لیکن اگر کوئی دوست یہ کتاب لینی چاہتے ہوں تو وہ لے سکتے ہیں۔اس کتاب کا نام ” فسادات 1953 ء کا پس منظر ہے جو ملک فضل حسین صاحب نے لکھی ہے۔اس کی قیمت ایک روپیہ ہے۔تاریخ احمدیت کی ابھی اور جلدیں بھی چھپتی ہیں۔میں نے اس کا اعلان آج سے پانچ سال قبل کیا تھا مگر کچھ تو میری بیماری کی وجہ سے ، کچھ ملک فضل حسین صاحب کی بیماری کی وجہ سے اور کچھ اُن لوگوں کی سستی کی وجہ سے جو اس کام پر مقرر کئے گئے تھے اس میں دیر ہوگئی۔اب اس کا ایک حصہ شائع ہوا ہے جس کا ذکر میں نے کر دیا ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اصل تاریخ 1953 ء سے نہیں بلکہ 1880ء سے شروع ہوتی ہے۔اس کے متعلق سنا ہے کہ مولوی دوست محمد صاحب نے ایک کتاب تیار کی ہوئی ہے جو جلد ہی شائع کر دی جائے گی۔مگر اس کے بعد ہمیں یہ سلسلہ بڑھانا ے گا۔ہمیں پہلے 1908ء سے 1914 ء تک کی تاریخ کو لانا پڑے گا۔1908 ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وفات پائی اور 1914ء میں حضرت خلیفہ اول فوت ہوئے اور پیغامیت کا زور پڑا۔پھر 1914 ء سے 1931 ء تک کی تاریخ کو لانا پڑے گا کیونکہ 1931ء میں کشمیر موومنٹ ہوئی اور اس میں احرار نے اپنا سارا زور لگایا بلکہ 1931 ء نہیں اس حصہ کو 1934 ء تک بڑھانا پڑے گا۔جب احرار نے قادیان پر حملہ کیا اور تحریک جدید کا قیام عمل میں لایا گیا۔پھر اسے 1934 ء سے 1953 ء تک لانا پڑے گا تب کہیں سلسلہ کی تاریخ پوری ہوگی۔