انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxi of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page xxxi

انوار العلوم جلد 26 آپ فرماتے ہیں: 20 20 تعارف کنند " قرآن کے ذریعہ مقابلہ کرنا ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے۔تلوار اور بندوق قرآن کریم کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔جس کے ساتھ قرآن ہے اس کے ساتھ سب کچھ ہے۔اور جس کے ساتھ قرآن نہیں ساری دنیا کے توپ خانے ، ہوائی جہاز اور گولہ بارود بھی اُس کے پاس موجود ہوں تو اُسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔جس کے پاس قرآن کریم ہے اور جس کے پاس خدا ہے اُسے دنیا کے کسی توپ خانے ، ہوائی جہاز، بندوقوں اور تلواروں کی ضرورت نہیں کیونکہ دنیوی توپ خانے ، بندوقیں اور تلواریں خدا تعالیٰ کا مقابلہ نہیں کرسکتیں " (15) سیر روحانی نمبر 12 وو سیر روحانی“ کے موضوع پر حضرت خلیفہ مسیح الثانی کے حقائق و معارف اور قرآنی انوار سے پُر تقاریر میں سے یہ آخری تقریر ہے جو 28 دسمبر 1958ء کو جلسہ سالانہ ربوہ میں آپ نے فرمائی۔حضور نے 1938ء میں حیدرآباد دکن کے سفر کے دوران ایک رویا میں 16 مادی اشیاء کا مشاہدہ کیا تھا۔ان کے مقابل پر عالم روحانی میں ان کے مشابہہ 16 امور بیان فرمائے۔ان میں سے ایک بادشاہوں کے کتب خانے بھی آپ نے رویا میں دیکھے۔اس کے بالمقابل قرآن میں بیان کتب خانوں کا تذکرہ حضور نے اس لیکچر میں فرمایا ہے۔جو روحانی عالم کے کتب خانے کے نام سے موسوم ہوئی۔خطاب کے آغاز میں حضور نے فِيهَا كُتُبْ قَيِّمَةٌ سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآن میں تمام سابقہ کتب کی قائم رہنے ۲۲ والی تعلیمات موجود ہیں۔آپ فرماتے ہیں: " بہر حال قرآن کریم نے جو کچھ کہا ہے کہ اس میں تمام سماوی اور الہامی کتب موجود ہیں، دین کو قائم رکھنے والی تمام تعلیمیں موجود ہیں، اسی طرح تمام ضروری علوم موجود ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام کتب اور علوم اپنی پوری تفصیل کے ساتھ قرآن کریم