انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 257

انوار العلوم جلد 26 257 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع۔۔تنظیم انسانوں سے اعلیٰ ہے۔اگر کوئی ایسا ذریعہ نکلے کہ ہم انسانوں میں بھی ان مرغابیوں والی تنظیم پیدا کر سکیں تو دنیا کو فتح کرنا ہمارے لئے کتنا آسان ہو جائے۔گویا اس خواب کے دو حصے تھے۔پہلا حصہ زمینداروں والا تھا اور دوسرا حصہ جانوروں والا ہے۔وہ مرغابیاں ہیں یا کوئی اور جانور ہیں میں نہیں جانتا مگر ہیں فصلی جانور۔وہ اس ترتیب سے اڑتے جا رہے ہیں کہ ایک آگے ہے اور دوسرے پیچھے ہیں۔یہ بات عام طور پر مگوں ، سرخابوں، کونجوں اور مرغابیوں میں پائی جاتی ہے۔میں نے انہیں دیکھ کر کہا کہ کیسا قادر خدا ہے کہ ہم تو آج پیدا ہوئے ہیں لیکن یہ خصلت اور صفت ان میں آدم علیہ السلام کے زمانہ سے پائی جاتی ہے اور ابتدا سے اس نے جانوروں کے دماغ میں ایسا علم بھر دیا ہے کہ جس کے ماتحت وہ ہمیشہ ایک تنظیم کے ساتھ اُڑتے ہیں۔اگر انسانوں کے اندر بھی ہم یہ تنظیم پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو جماعت احمد یہ باوجود تھوڑے ہونے کے ساری دنیا پر غالب آ سکتی ہے۔اس وقت بھی ہماری تنظیم ہی ہے جس کی وجہ سے گو ہماری جماعت بالکل غریب ہے مگر پھر بھی اس کا سالانہ چندہ تحریک جدید اور صدر انجمن احمدیہ کو ملا کر پچھلے سال پچاس لاکھ کے قریب تھا اور ہمیں امید ہے کہ یہ چندہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھتا چلا جائے گا۔تھوڑے عرصہ میں ہی تحریک جدید اور صدرانجمن احمد یہ کا سالانہ چندہ پینسٹھ لاکھ روپیہ ہو جائے گا۔میں تو اپنے ذہن میں یہ سوچا کرتا ہوں کہ اگر ہماری جماعت کا سالانہ چندہ تین کروڑ ہو جائے تو ہم پاکستان کے گوشہ گوشہ میں اپنے مبلغ پھیلا سکتے ہیں کیونکہ تین کروڑ سے پچیس لاکھ روپیہ ماہوار بنتا ہے۔اور پچیس لاکھ روپیہ ماہوار کے معنے یہ ہیں کہ اگر ہر مبلغ کی ماہوار تنخواہ ایک سو روپیہ بھی ہو تو ہم چھپیس ہزار مبلغ رکھ سکتے ہیں اور چھپیں ہزار مبلغ پاکستان کے گوشہ گوشہ میں پھیلایا جا سکتا ہے۔غرض آج میں تحریک جدید کے نئے سال کے لئے جماعت سے مالی قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہوں۔اب الفضل اور تحریک جدید کے کارکنوں کا فرض ہے کہ وہ اس اعلان کو بار بار پھیلائیں اور اس کی اشاعت کریں۔ہر دوست کو چاہیے کہ وہ کوشش کرے کہ پچھلے سال اُس نے جو کچھ چندہ دیا تھا اس سال اس سے کچھ نہ کچھ بڑھا کر دے۔پچھلے سالوں