انوارالعلوم (جلد 26) — Page 256
انوار العلوم جلد 26 256 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع۔۔انہیں غیر ملکوں میں بھیجا جا سکے۔اور جماعت کو میں تحریک کرتا ہوں کہ اگر ہمارے مبلغ بڑھتے گئے اور مسجدیں بڑھتی گئیں تو ہمارا خرچ بھی بڑھتا چلا جائے گا۔ایک مسجد پر دولاکھ روپیہ خرچ آتا ہے اور میری سکیم پچاس مسجد میں بنانے کی ہے۔گویا ایک کروڑ روپیہ کی صرف غیر ملکی مساجد کے لئے ضرورت ہے۔تم یہ نہ سمجھو کہ ہماری جماعت غریب ہے۔میں نے ایک رؤیا دیکھی ہے جس سے خدا تعالیٰ نے مجھے تسلی دلائی ہے کہ یہ غربت عارضی ہے اور ایسے سامان پیدا ہونے والے ہیں کہ جن کے نتیجہ میں جماعت کو خدا تعالیٰ بہت کچھ مال دے گا۔میں نے خواب میں دیکھا کہ زمینداروں کا ایک بہت بڑا گر وہ ہے۔وہ زمیندار ایسے ہیں جومر بعوں کے مالک ہیں۔وہ راجہ علی محمد صاحب کے پاس آئے اور اُن سے انہوں نے مصافحہ کیا اور پھر ایک طرف چلے گئے۔میں اُن کو دیکھ کر کہتا ہوں کہ اب خدا تعالیٰ چاہے گا تو یہ ساٹھ ہزار ہو جائیں گے اور ان میں سے ہر شخص سال میں ایک ایک سو روپیہ بھی مساجد کے لئے دے تو ساٹھ لاکھ روپیہ ہو جائے گا اور ساٹھ لاکھ سے ہیں مساجد بن سکتی ہیں۔اس رویا سے میں نے سمجھ لیا کہ اب خدا تعالیٰ اپنے فضل سے زمینداروں میں ہماری جماعت پھیلانا چاہتا ہے اور وہ بھی ایسے زمینداروں میں جو کم سے کم ایک سور و پیہ سالانہ مساجد کے لئے دے سکیں۔مثلاً ہمارے ہاں مربعوں کے ٹھیکوں کی آمد تین تین چار چار ہزار روپیہ ہے اور زمینداروں کا خرچ بہت کم ہوتا ہے۔اگر وہ خود کام کریں تو تین چار ہزار کی بجائے وہ چھ سات ہزار روپیہ کما سکتے ہیں اور اس میں سے ایک سو روپیہ مساجد کے لئے دینا کوئی بڑی بات نہیں۔چنانچہ میں خواب میں کہتا ہوں کہ اب یہ لوگ ساٹھ ہزار ہو جائیں گے اور اگر ایک ایک سو روپیہ بھی یہ لوگ مساجد کے لئے دیں تو ساٹھ لاکھ ہو جائے گا۔اس کے بعد یکدم وہ آدمی تو میری نظروں سے غائب ہو گئے لیکن جانوروں کا ایک جھنڈ اُڑتا ہوا میرے سر پر سے گزرا۔وہ جانور موسمی معلوم ہوتے ہیں جیسے مرغابیاں ہوتی ہیں۔یہ جانور ایک خاص ترتیب کے ساتھ چلتے ہیں میری نظر ان جانوروں پر پڑی اور میں نے کہا اللہ تعالیٰ بھی کیسی قدرتوں والا ہے اُس نے ایسے جانور پیدا کئے ہیں کہ وہ ہیں تو انسانوں سے ادنی مگر ان کی