انوارالعلوم (جلد 26) — Page 235
انوار العلوم جلد 26 235 ہر احمدی عورت احمدیت کی صداقت کا ایک زندہ معنے یہ ہیں کہ تیری جماعت میں مخلص اور تبلیغ کا جوش رکھنے والے لوگ کثرت سے پیدا کئے جائیں گے۔چنانچہ دیکھ لو احمدیت نے کیسے نامساعد حالات میں سے گزر کر ترقی کی ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہوئے تو جلسہ سالانہ پر آنے والوں کی تعداد 750 تھی۔اُس سال آپ شام کے وقت سیر کیلئے تشریف لے گئے تو آپ کی جوتی بھیڑ کی وجہ سے آپ کے پاؤں سے نکل جاتی تھی۔آپ سیر سے واپس تشریف لائے تو فرمایا اب جماعت کو اس قدر ترقی حاصل ہوگئی ہے کہ اس سال جلسہ پر 750 آدمی آئے ہیں۔لیکن اب خدا تعالیٰ کے فضل سے خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے سالانہ اجتماع پر ہی آنے والوں کی تعداد 750 سے زیادہ ہوتی ہے اور جلسہ سالانہ پر تو اس سے کئی گنا زیادہ لوگ آتے ہیں۔پچھلے سال جلسہ سالانہ پر ساٹھ ہزار آدمی آیا تھا اگر اس سال آنے والوں کی تعداد کچھ کم بھی ہو جائے تب بھی پچاس پچپن ہزار افراد کے آنے کی امید کی جاتی ہے۔پھر غیر ممالک میں جلسہ سالانہ پر جس قدر لوگ آتے ہیں اگر اُن سب کو شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔میں نے پچھلے جلسہ سالانہ پر اعلان کیا تھا کہ فلپائن سے 61 بیعتیں آچکی ہیں اب وہاں سے اطلاع آئی ہے کہ بیعت کرنے والوں کی تعداد 500 تک پہنچ چکی ہے اور یہ سب لوگ عیسائی تھے۔پہلے فلپائن سپین والوں نے فتح کیا تھا پھر امریکہ نے لڑائی کی اور فلپائن کو فتح کر لیا بلکہ فلپائن کے ساتھ اس نے کیوبا پر بھی قبضہ کر لیا۔جس جرنیل نے فلپائن کو فتح کیا وہ پُرتگیز تھا۔تاریخوں میں لکھا ہے کہ فتح کے بعد اس جرنیل نے فلپائن کے ایک مقام پر اپنی تلوار لٹکا دی اور حکم دے دیا کہ جو شخص اپنی جان بچانا چاہتا ہے وہ اس تلوار کے نیچے سے گزرتا جائے اور اعلان کرتا جائے کہ وہ عیسائی ہے لیکن جو عیسائیت کا اقرار نہیں کرے گا اسے مار ڈالا جائے گا۔چنانچہ جوشخص یہ فقرہ کہتا تھا اسے کچھ نہیں کہا جا تا تھا اور جو شخص نہیں کہتا تھا اُسے وہیں تلوار سے قتل کر دیا جاتا تھا۔اس طرح سارا ملک ایک دن میں عیسائی ہو گیا۔پس فلپائن کا ملک ہمارے لئے نہایت قیمتی ہے کیونکہ وہ ہمارے باپ دادا کا ورثہ ہے۔سینکڑوں سال تک وہ مسلمان رہا اور پھر ا سے جبراً عیسائی بنالیا گیا۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں اسلام سرعت کے ساتھ پھیل رہا ہے اور ایک خط کے ذریعہ یہ اطلاع ملی