انوارالعلوم (جلد 26) — Page xxvii
انوار العلوم جلد 26 16 تعارف کتب سیر روحانی کے اس حصہ میں حضور نے عالم روحانی کے لنگر خانوں سے تشبیہہ دے کر جماعت کی ترقیات کا ذکر فرمایا ہے۔اور فرمایا کہ جسمانی لنگر تو کب کے خاموش ہو چکے ہیں لیکن قرآنی لنگر کے ہمیشہ زندہ رہنے کی پیشگوئی قرآن کریم میں مذکور ہے۔چنانچہ اس نے فرمایا اِنَّا اَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ - فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ۔إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ - حضور نے فرمایا: دشمن اسلام سمجھتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی جسمانی اولاد نہیں اس لئے ابتر ٹھہرے۔نعوذ باللہ اس میں دراصل ایک پیشگوئی تھی کہ دشمنانِ اسلام کی اپنی اولادیں جلد ان کے والدین کو چھوڑ کر حضرت محمد کی اطاعت کا جو پہننے والی ہیں۔حضور نے ابو جہل کے بیٹے عکرمہ ، العاص کے بیٹے عمر و، ولید کے بیٹے خالد کے اسلام قبول کرنے اور ان کی قربانیوں کا ذکر فرمایا: یہ روحانی اسلامی لنگر حضرت مسیح موعود کے ذریعہ جاری ہے۔اگر احمدی اپنے ایمان پر قائم رہے تو یہ منظر بھی ہمیشہ قائم رہے گا اور بھی نہیں مئے گا۔علم و معرفت کے اس آسمانی مائدہ کے بیان کرنے سے قبل تقریر کے آغاز پر حضور نے مصلح موعود کی پیشگوئی کے بارے میں نہایت ایمان افروز واقعات بیان فرمائے۔جن سے قطعی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ہی مصلح موعود ہیں۔اس ضمن میں آپ نے تین آسمانی نشانوں کا خصوصی طور پر ذکر فرمایا: 1 - حضرت مسیح موعود کی نعش مبارک کے سامنے اسلام کی اشاعت کے کام کو جاری رکھنے کا عہد 1913-2ء میں شملہ کے قیام میں ایک رؤیا کا ذکر فرمایا ہے۔جس میں اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے راستے میں بلائیں آئیں گی مگر تم یہ کہتے چلے جانا خدا سے فضل اور رحم کے ساتھ " چنانچہ آپ نے ہر تحریر ، تقریر اور مضمون پر یہ الفاظ نوٹ فرمائے۔اُدھر حضرت مسیح موعود نے پیشگوئی مصلح موعود کے مطابق اپنے ہاں بیٹا پیدا ہونے پر لکھا کہ تب