انوارالعلوم (جلد 26) — Page 212
انوار العلوم جلد 26 212 مجلس خدام الاحمد یہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع ۔ نے جائیں تو کم سے کم اتنا تو ہو سکتا ہے کہ آپ عیسائیوں کے سامنے سر اٹھا سکیں لیکن فخر اس اتنا ہوسکتا سرائی بات میں ہے کہ آپ تبلیغ کے کام کو قیامت تک جاری رکھیں ۔ اس میں کوئی کمزوری نہ آنے دیں ۔ پس آپ لوگ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں ، محنت کریں اور اپنے فرض کو پوری طرح ادا کریں اور یاد رکھیں کہ اس فرض کا ادا کرنا مصیبت نہیں بلکہ آپ لوگوں کے لئے فخر کا موجب ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب صحابہ کرام کو آپ کی خدمت کا موقع ملتا تھا یا اسلام کی خدمت کا موقع ملتا تھا تو وہ اسے مصیبت خیال نہیں کرتے تھے بلکہ فخر محسوس کرتے تھے کہ ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کا موقع ملا ہے یا خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کا موقع ملا ہے اور اس غرض کے لئے وہ بڑی سے بڑی قربانی کرنے کے لئے تیار رہتے تھے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ اُحد کے لئے تشریف لے گئے تو ابتدا میں اسلامی لشکر کو فتح حاصل ہو گئی تھی لیکن بعد میں مسلمانوں سے غلطی ہوئی جس کے نتیجہ میں کفار نے مسلمانوں پر پشت کی طرف سے حملہ کر دیا اور اتنا سخت حملہ کیا کہ ان کے قدم اکھڑ گئے اور سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گڑھے میں گر گئے اور لوگوں میں مشہور ہو گیا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں ۔ اُحد مد ینہ سے قریب ہی واقع ہے اس لئے وہاں سے بھاگ کر لوگ مدینہ پہنچے اور انہوں نے وہاں یہ خبر پھیلا دی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں ۔ یہ خبر سن کر مدینہ کے مرد ، عورتیں اور بچے دیوانہ وار أحد وسلم ہو ہیں۔ یہ خبرسن کی طرف بھاگے تا کہ آپ کی آخری بار زیارت کر سکیں ۔ اکثر لوگوں کو تو آپ کی سلامتی کی کہ کی بار کر ۔ تو کی خبر راستہ میں ہی مل گئی اور وہ رُک گئے مگر ایک عورت دیوانہ وار آگے بڑھتے ہوئے احد مقام تک پہنچ گئی ۔ اُحد کی جنگ میں اس عورت کا باپ، خاوند اور بھائی تینوں مارے گئے تھے اور بعض روایتوں میں ہے کہ ایک بیٹا بھی مارا گیا تھا۔ جب وہ دیوانہ وار اُحد کی طرف جا رہی تھی تو لوگوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سلامتی کا علم ہو چکا تھا اور لشکر کے تمام افراد نے آپ کو زندہ دیکھ لیا تھا اس لئے صحابہ آپ کی ذات کے متعلق مطمئن تھے لیکن اس عورت کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوئی علم نہیں تھا وہ دوڑ کر ایک صحابی