انوارالعلوم (جلد 26) — Page 193
انوار العلوم جلد 26 193 یوم صبح موعود پر جماعت احمدیہ کراچی۔۔کمزور اور ناطاقت ہوتے ہوئے جو کچھ بچتا ہے خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے دے دیتے ہیں یہاں تک کہ اپنے بچوں کے بچے ہوئے ٹکڑے بھی وہ خدا تعالیٰ کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں۔اگر کمزور اور نا طاقت اور غریب اور کنگال ہوتے ہوئے وہ خدا کے لئے ایسی قربانی کرتے ہیں تو کیا خدا ہی نَعُوذُ بِاللهِ ایسا بے غیرت ہے جو انہیں ذلت میں چھوڑ کر اپنے عرش پر جا بیٹھے گا ؟ کیا کسی انسان کی عقل میں یہ بات آ سکتی ہے کہ خدا بے غیرت ہو؟ جس طرح یہ بات کسی انسانی عقل میں نہیں آسکتی کہ خدا بے غیرت ہو اسی طرح یہ بھی کسی انسانی عقل میں نہیں آسکتا کہ دین کی ایسی خدمت کرنے والے لوگوں کو چھوڑ کر وہ آسمان پر چلا جائے گا اور وہ اُس وقت تک آسمان پر نہیں جائے گا جب تک وہ ان کو تخت پر نہ بٹھا دے اور ان کے ذریعہ دنیا کے کونے کونے میں اشاعتِ اسلام نہ ہو جائے اور ان کے دشمنوں کو ان کے دروازوں پر نہ لے آئے۔جب وہ وقت آئے گا کہ احمدیت دنیا میں چاروں طرف پھیل جائے گی اور احمدیوں میں اتناز ور پیدا ہو جائے گا کہ وہ اپنے بل اور طاقت پر اسلام کو پھیلا سکیں اُس وقت ممکن ہے کہ خدا کہے کہ چند روز تم بھی کھیل کھیل لو۔لیکن جب تک وہ وقت نہیں آتا اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ رہے گا اور وہ تمہیں کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں چھوڑے گا۔میں نے کئی دفعہ کہا ہے کہ ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ایسا ہی سلوک ہے جیسے ماں باپ کا اپنے بچوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ماں باپ بعض دفعہ میز یا کوئی اور چیز اٹھانا چاہتے ہیں تو بچے کو کہتے ہیں کہ تم بھی میز اٹھاؤ اور وہ بھی اپنا ہاتھ میز کے نیچے رکھ دیتا ہے اور خوش ہوتا ہے کہ میں کام کر رہا ہوں۔اسی طرح ہمارے سب کام خدا کر رہا ہے۔مگر بچے کی طرح ہم بھی نہایت ادنی اور حقیر قربانیاں کر کے خوش ہو جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ ہم کام کر رہے ہیں حالانکہ ہم نہیں کر رہے ہمارا خدا سب کچھ کر رہا ہے۔لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جس وقت میز اٹھائی جارہی ہوتی ہے تو بچہ ہی خوش نہیں ہوتا ماں باپ بھی خوش ہوتے ہیں کہ ہمارا بچہ ہمارے کام میں شریک ہے۔اس طرح جب تم خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے کھڑے ہوتے ہو تو صرف تم ہی خوش نہیں ہوتے بلکہ خدا بھی