انوارالعلوم (جلد 26) — Page 187
انوار العلوم جلد 26 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ 187 یوم صلح موعود پر جماعت احمدیہ کراچی۔نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَنْ یوم مصلح موعود پر جماعت احمدیہ کراچی سے خطاب (فرموده 20 فروری 1957ء بمقام احمد یہ ہال کراچی ) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔: الہی تقدیر جب دنیا میں کوئی خاص تغیر پیدا کرنا چاہتی ہے تو بنی نوع انسان کی مخالفانہ کوششیں اور تدابیر اس کی مشیت کے پورا ہونے میں کوئی روک پیدا نہیں کر سکتیں اور آخر وہی ہوتا ہے جو خدا چاہتا ہے اور اس کی بات پوری ہو کر رہتی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے یہی سلوک چلا آ رہا ہے۔1908ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہوئے اور حضرت خلیفہ اول کی بیعت ہوئی تو میری عمر اُس وقت 19 سال کی تھی بنانے کو تو جماعت کے بڑے لوگوں نے حضرت خلیفہ اول کو خلیفہ بنادیا تھا مگر دوسرے ہی دن انہوں نے آپ کے خلاف منصوبے شروع کر دیئے۔اُس وقت ان لوگوں کی سازشوں اور منصوبوں کا مجھے ہی مقابلہ کرنا پڑا اور 1908ء سے لے کر 1914 ء تک یہ جنگ جاری رہی۔66 حضرت خلیفہ اول کے ہاتھ پر بیعت کر لینے اور ایک ہاتھ پر اکٹھا ہو جانے کے بعد ان لوگوں میں یہ جرات تو نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ سامنے آسکیں اس لئے کبھی اظہارِ حقیقت کے نام پر اظہار کی بجائے اخفاء سے کام لیا جاتا اور بغیر نام کے ان ٹریکٹوں کو شائع کر کے حضرت خلیفہ اول کی مخالفت پر جماعت کو اکسایا جا تا اور کبھی ”پیغام صلح کے نام سے جس کو خود حضرت خلیفہ اول نے پیغام جنگ قرار دیا تھا صلح کی بجائے جنگ کی آگ کو بھڑ کا یا جاتا۔گویا جس طرح انہوں نے اپنے ٹریکٹوں کا نام اظہارِ حقیقت“ رکھا مگر