انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 179

انوار العلوم جلد 26 179 سیر روحانی (10) جہاں لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ مرزا صاحب کے طفیل نہیں پڑھا گیا۔اور مولوی ابھی تک یہی کہتے چلے جاتے ہیں کہ کافر ، اکفر، اس کے ماننے والے دجال۔وہ دقبال جو اسلام کو مارنے آیا تھا مرزا صاحب کا کتنا کمال ہے کہ اس دقبال کو کلمہ پڑھوانے پر مقرر کر دیا۔آخر یہ کتنی بڑی شان ہے کہ دجال کا کام تو یہ لکھا تھا کہ وہ کلمہ لوگوں۔چھڑوائے گا مگر مرزا صاحب نے وہ دجال پیدا کئے کہ انہوں نے دنیا بھر میں لوگوں سے ނ کلمہ پڑھوا دیا۔پس دعائیں کرو ان تمام مبلغین کے لئے جو باہر ہیں کیونکہ وہ آپ لوگوں کا کام کرتے ہیں۔آپ لوگ اپنے بیوی بچوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔بے شک مال دیتے ہیں مگر مال کا کچھ حصہ۔اور وہ لوگ ایسے ہیں جو اپنا بہت سا مال بھی دیتے رہے ہیں اور پھر چھوٹی نوکریوں اور چھوٹے گزاروں پر جا رہے ہیں۔ایسے تنگ گزاروں پر جارہے ہیں کہ غیروں کو بھی دیکھ کر رحم آتا ہے۔ایک پاکستانی فوج کا میجر با ہر کسی جگہ پر پاکستان کی طرف سے گیا۔اس نے مجھے خط لکھا اور بعد میں مجھے کوئٹہ میں خاص طور پر ملا۔کہنے لگا میں نے آپ کا فلاں مبلغ دیکھا ہے ، وہ بڑی اعلیٰ خدمت کرتا ہے مگر اُس کے کپڑے اور اُس کے کھانے ایسے رڈی تھے کہ مجھے شرم آتی تھی کہ وہ اسلام پھیلانے کے لئے آیا ہے اور اتنی غربت میں ہے۔تو میں آپ سے درخواست کرنے آیا ہوں کہ آپ اپنے مبلغ کو اتنا روپیہ تو دیا کریں کہ جس سے وہ کھانا کھا سکے اور کپڑے پہن سکے۔تو ایسی تنگی میں وہ لوگ گزارہ کرتے ہیں مگر پھر بھی ان پر ایک ہی دُھن سوار ہے اور رات دن یہ جنون ہے کہ دنیا کلمہ پڑھنے لگ جائے۔ان کی حالت اُس میراشن کی سی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں آئی۔اُس کا بیٹا عیسائی ہو گیا تھا اور وہ مسلول تھا۔وہ اسے حضرت صاحب کے پاس قادیان میں تبلیغ کے لئے لائی مگر اُس پر اثر نہ ہوا اور وہ رات کو بھا گا۔وہ اُسی رات کو گئی اور اُس کو پکڑ کر لائی۔میں نے دیکھا حضرت صاحب چار پائی پر بیٹھے ہوئے تھے۔وہ پیروں پر آکر لوٹتی تھی اور بے تحاشا روتی تھی اور کہتی تھی حضور ! میں آپ سے کوئی دولت