انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 178

انوار العلوم جلد 26 178 سیر روحانی (10) ہمارے مبلغوں کو نہیں ملتا۔ورنہ اگر ہمارے مبلغوں کو ملتا تو اب تک ہمارے مبلغوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو جاتی جتنی گل میں نے بیان کی تھی۔امریکہ میں ایک پاکستانی جرنیل گیا۔اُس کی بیوی احمدی تھی۔ایک دن وہ ہوٹل میں کھانا کھارہے تھے کہ ہمارا مبلغ پہنچا۔ہم مبلغوں کو خرچ بہت کم دیتے ہیں۔اس کے سیدھے سادے کپڑے تھے۔ان کو بُرا لگا کہ میں جرنیل اور بڑا آدمی ہوں، پاکستان کا اِس ملک میں نمائندہ ہوں ، میرے کپڑے اچھے ہیں، میری بیوی کے کپڑے اچھے ہیں اور یہ جو اس کا پیر بھائی ہے اس کے کپڑے گندے ہیں تو اُس کی بیوی نے بتایا کہ وہ میری طرف دیکھ کر ہنس کر کہنے لگا دیکھے! وہ تیرا پیر بھائی جا رہا ہے۔مطلب یہ کہ تم اتنے ذلیل ہو۔وہ کہنے لگی خدا نے میری عزت رکھ لی۔معاً اُس کے فقرہ کے بعد تبلیغی جماعت کے ملا آئے جن کے پانچے اوپر گھٹنوں تک چڑھے ہوئے تھے اور انہوں نے ہاتھ میں دو نے 32 لے کر ان کے اندر کھانا ڈالا ہوا تھا اور ان کے ہاتھ میں طہارت کے لئے مٹی کے لوٹے تھے۔پھر انہوں نے کھا کھا کے میزوں کے نیچے کا غذ پھینکنے شروع کئے۔میں نے اسے کہا یہ تمہارے پیر بھائی ہیں۔وہ کہنے لگی میرا خاوند ا تنا شرمندہ ہوا کہ پھر ایک لفظ بھی اس کے منہ سے نہ نکلا۔تو دیکھو یہ اللہ تعالیٰ کا ہی فضل ہے۔تم نے سنا ہے امریکہ سے بھی تاریں آئی ہیں، سکنڈے نیویا سے بھی آئی ہیں۔ایک طرف بحیرہ منجمد شمالی کے قریب ہے اور روس سے بھی اوپر ہے مگر وہاں سے بھی تاریں آئی ہیں۔پھر ہالینڈ سے بھی آئی ہیں۔پھر جرمنی سے بھی آئی ہیں بلکہ جرمنی کا ایک نمائندہ یہاں بیٹھا ہے جو یونیورسٹی میں پروفیسر ہے اور بڑا قابل آدمی ہے۔پھر سوئٹزرلینڈ سے بھی آئی ہیں۔دمشق سے بھی آئی ہیں۔بیروت سے بھی آئی ہیں۔سپین سے بھی آئی ہیں۔لندن سے بھی آئی ہیں۔پھر نیچے چلے جاؤ تو پاکستان کو چھوڑ کر ہندوستان سے آئی ہیں۔اور پھر جنوبی ہند تک سے آئی ہیں۔پھر ملایا سے آئی ہیں۔پھر اس سے پرے جا کے انڈونیشیا سے آئی ہیں۔پھر اس سے اوپر جاپان کے پاس اور فلپائن کے پاس جا کر بور نیو سے آئی ہیں۔غرض مشرق اور مغرب میں کوئی گوشہ نہیں